المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ باب: تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا يحيى بن سعيد القَطَّان، عن عوف. وأخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا عَوف بن أبي جَميلة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن عبد الله بن سَلَام، قال: لمَّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ جَفَل (2) الناس إليه، وقيل: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ، فجئتُ في الناس لأنظرَ إليه، فلما استبَنَتُ وجهَ رسول الله ﷺ، عرفتُ أن وجهَه ليس بوجه كذّاب، فكان أولَ شيء تكلَّم به أن قال: "يا أيُّها الناسُ، أَفشُوا السلامَ، وأطعِمُوا الطعامَ، وصِلُّوا الأرحامَ، وصَلُّوا والناسُ نِيامٌ، تَدخلُوا الجنَّة بسَلَام" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ (مدینہ منورہ) تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑے، اور کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں، میں بھی لوگوں کے ساتھ آپ ﷺ کو دیکھنے کے لیے گیا، پھر جب میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو غور سے دیکھا تو میں پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا، آپ ﷺ نے سب سے پہلی بات جو ارشاد فرمائی وہ یہ تھی: ”اے لوگو! سلام کو رواج دو (عام کرو)، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کو اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "جعل" بن گیا ہے۔ جبکہ درست لفظ "جَفَل" ہے جس کا مطلب ہے: اس نے جلدی کی۔
(3) إسناده صحيح. وسلف الحديث برقم (4329) وتكلمنا هناك على سماع زرارة بن اوفى من عبد الله بن سلام.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ حدیث پہلے نمبر (4329) پر گزر چکی ہے اور وہاں ہم نے زرارہ بن اوفیٰ کے عبد اللہ بن سلام سے سماع پر کلام کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23784)، وابن ماجه (1334)، والترمذي (2485) من طريق يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث صحيح
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23784)، ابن ماجہ (1334) اور ترمذی (2485) نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔