کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، پھر باپ کے ساتھ، پھر جو زیادہ قریبی ہو
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن هشام بن مَلّاس النُّميري، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وحدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن، حدثنا أبو عاصم ومكّي بن إبراهيم؛ قالوا: حدثنا بَهْزَ بنَ حَكيم، عن أبيه، عن جده قال: قلتُ: يا رسولَ الله، من أبَرُّ؟ قال: "أُمَّكَ" قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال: "أُمَّك"، قلتُ: يا رسول الله، ثم من؟ قال: "أُمَّك" قلت: يا رسول الله، ثم مَن؟ قال: "ثم أباك" قلت: يا رسولَ الله، ثم مَن؟ قال: "ثم الأقربَ فالأقربَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه على شرطهما في حكيم بن معاوية أنه ليس له راو غير بَهْز. وقد روى عنه أبو قَزَعة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7242 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه على شرطهما في حكيم بن معاوية أنه ليس له راو غير بَهْز. وقد روى عنه أبو قَزَعة الباهلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7242 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی شرط پر روایت نہیں کیا کیونکہ حکیم بن معاویہ سے بہز کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ ان سے ابو قزعہ باہلی نے بھی روایت کی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی شرط پر روایت نہیں کیا کیونکہ حکیم بن معاویہ سے بہز کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ ان سے ابو قزعہ باہلی نے بھی روایت کی ہے۔
حدَّثَناه دَعلَج بن أحمد السِّجزيُّ، حدثنا عبد العزيز بن معاوية، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثني عبيد الله بن الوازِع وحمّاد بن سَلَمة، عن أبي قَزْعَة سُوَيد بن حُجَير الباهلي، عن حَكيم بن معاوية (2)، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، من أبَرُّ؟ قال: "أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال: "ثم أُمَّك" قلت: ثم مَن؟ قال: "ثم أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال: "ثم أباك، ثم الأقربَ فالأقربَ (3). قال الحاكم رحمه الله تعالى: ثم وَجَدنا لهذا الحديث شواهدَ: فمنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو“۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر ہمیں اس حدیث کے شواہد ملے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر ہمیں اس حدیث کے شواہد ملے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
ما حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا، زائدة عن منصور، عن عُبيد بن علي، عن خِدَاش أبي سَلَامة، رجل من الصحابة، قال: قال رسول الله ﷺ: "أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأُمِّه، أُوصِي امْرَأً بأبيه، أُوصِي امْرَأً بمولاه الذي يَليِه، وإن كان عليه فيه أذًى يُؤذيه" (1). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7243 - له شواهد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7243 - له شواهد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خداش ابو سلامہ رضی اللہ عنہ جو کہ ایک صحابی ہیں، سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، اور میں آدمی کو اس کے اس قریبی رشتہ دار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو اس کے معاملات کا ذمہ دار ہو، اگرچہ وہ اسے کوئی تکلیف ہی کیوں نہ پہنچاتا ہو“۔
ما حدّثني أبو القاسم الحسن بن محمد بن السَّكُوني بالكوفة، حدثنا عبد الله بن غَنّام، حدثني أبي، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن أبي عُتبة، عن عائشة قالت: قلت: يا رسولَ الله، أيُّ الناسِ أعظمُ حقًّا [على المرأة؟ قال: "زوجُها"، قلت: فأيُّ الناس أعظم حقًّا] (2) على الرَّجل؟ قال: "أُمُّه" (3). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے شوہر کا“، میں نے عرض کیا: تو مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی ماں کا“۔
ما أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا المسعودي، عن إياد بن لَقِيط، عن أبي رِمْثة، قال: انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ فسمعتُه يقول: "أُمَّكَ وأباك، وأُختَك وأخاك، ثم أدْناكَ أدْناكَ" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اپنی ماں اور اپنے باپ کے ساتھ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ (حسنِ سلوک کرو)، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو“۔