کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے
ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى حدثنا إسماعيل بن عيّاش عن بَحِير بن سعد، عن خالد بن مَعْدان عن المِقْدام بن مَعْدي كَرِبَ، عن النبيِّ ﷺ قال: "إنَّ الله تعالى يُوصِيكم الأَقرَب فالأقربَ" (2). إسماعيل بن عياش أحدُ أئمّة أهلِ الشام إنما نُقِمَ عليه سوءُ الحفظ فقط. ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7246 - إنما نقم على إسماعيل سوء الحفظ فقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7246 - إنما نقم على إسماعيل سوء الحفظ فقط
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں قریبی رشتہ داروں، پھر ان کے بعد قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے“۔
اسماعیل بن عیاش اہل شام کے ائمہ میں سے ایک ہیں، ان پر صرف حافظے کی خرابی کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے۔
اسماعیل بن عیاش اہل شام کے ائمہ میں سے ایک ہیں، ان پر صرف حافظے کی خرابی کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے۔
ما أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "نِمتُ فرأيتُني في الجنَّة، فسمعتُ صوتَ قارئٍ يقرأُ، فقلت: مَن هذا؟ قالوا: حارثةُ بن النُّعمان، فقال رسول الله ﷺ: "كذلك البِرُّ"؛ وكان أبرَّ الناسِ بأُمِّه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. قال ابن عيينة (2) وغيرُه، قالوا فيه: دخل رسولُ الله ﷺ الجنةَ، ولم يذكروا فيه النومَ ولا بِرَّ أُمِّه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7247 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. قال ابن عيينة (2) وغيرُه، قالوا فيه: دخل رسولُ الله ﷺ الجنةَ، ولم يذكروا فيه النومَ ولا بِرَّ أُمِّه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7247 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں سویا تو میں نے خود کو جنت میں دیکھا، وہاں میں نے ایک قاری کی آواز سنی جو قرآن پڑھ رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے“؛ اور وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والے تھے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، ابن عیینہ اور دیگر راویوں نے اسے رسول اللہ ﷺ کے جنت میں داخل ہونے کے تذکرے کے ساتھ بیان کیا ہے مگر اس میں نیند یا ماں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، ابن عیینہ اور دیگر راویوں نے اسے رسول اللہ ﷺ کے جنت میں داخل ہونے کے تذکرے کے ساتھ بیان کیا ہے مگر اس میں نیند یا ماں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابةَ (ح) وحدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا الحسن بن سهل المُجَوَّز، حدثنا أبو عاصم، عن ابن جُريج، حدثني محمد بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن معاوية بن جاهِمةَ: أنَّ جاهمةَ أَتى النبيَّ ﷺ، فقال: إني أردتُ أن أغزوَ، وجئتُ أَستشيرُك، فقال: "ألك والدةٌ"؟ قال: نعم، قال: "اذْهَبْ فَالزَمْها، فإنَّ الجنةَ عند رِجلَيها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7248 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7248 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہمہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں اور آپ ﷺ سے مشورہ کرنے آیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کی خدمت میں لگے رہو کیونکہ جنت ان کے قدموں تلے ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔