کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک پہلی نعمت جس کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ ٹھنڈا پانی ہے
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا أبو زَبْر عبد الله بن العلاء بن زَبْر، حدثنا الضحَّاك بن عبد الرحمن بن عَرْزَب، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أَولَ ما يُحَاسَبُ به العبدُ يومَ القيامة أن يُقال له: ألم أَصحَّ لك جسمَك، وأَروِكَ من الماء البارد؟ " (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7203 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7203 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندے سے (نعمتوں کے متعلق) سب سے پہلے جو حساب لیا جائے گا وہ یہ ہے کہ اس سے کہا جائے گا: کیا ہم نے تمہارے جسم کو تندرست نہیں رکھا تھا، اور کیا ہم نے تمہیں ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا عبد العزيز بن محمد، أخبرني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُستَقى له الماء العَذْبُ من بيوت السُّقْيا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7204 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7204 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ”بیوت السقیا“ (مدینہ کے قریب ایک چشمہ یا مقام) سے میٹھا پانی منگوایا جاتا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔