أخبرَناه علي بن عبد الله، حدثنا العباس بن محمد، حدثنا الحسين بن محمد، حدثنا الحسين بن الرَّمّاس، حدثنا عبد الرحمن بن مسعود العَبْدي، قال: سمعتُ سلمانَ الفارسيَّ يقول: نهانا رسولُ الله ﷺ أن نتكلَّفَ للضَّيف (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7147 - سنده لين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7147 - سنده لين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم مہمان کے لیے (حد سے زیادہ) تکلف کریں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن زَحْر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أُمامة، أنَّ النبي ﷺ قال: "إِنَّ أغبَطَ الناس عندي لَمؤمنٌ خفيفُ الحاذِ، ذو حَظٍّ من الصلاة، أحسَنَ عبادة الله، وأطاعَه (2) في السِّرّ غامضًا في الناس، لا يُشارُ إليه بالأصابع، وكان رِزقُه كَفَافًا، فصَبَرَ على ذلك"، ثم نَفَضَ (1) رسولَ الله ﷺ بإصبعِه وقال: "عُجِّلتْ مَنيَّتُه، وقلَّتْ بَوَاكيهِ، وقلَّ تُراثُه" (2). هذا إسناد للشاميين صحيح عندهم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7148 - إلى الضعف هو
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7148 - إلى الضعف هو
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ قابلِ رشک وہ مومن ہے جس کا بوجھ ہلکا ہو، اسے نماز سے وافر حصہ ملا ہو، اس نے اپنے رب کی بہترین عبادت کی ہو اور تنہائی میں بھی اس کی اطاعت گزاری کی ہو، وہ لوگوں میں گمنام رہا ہو کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جاتا ہو، اور اس کا رزق ضرورت کے مطابق (کفاف) ہو اور اس نے اس پر صبر کیا ہو“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی مبارک کو جھٹکا دیا اور فرمایا: ”اس کی موت جلد آ گئی، اس پر رونے والیاں کم تھیں اور اس کی میراث بھی بہت تھوڑی تھی۔“
اہل شام کے نزدیک یہ اسناد ان کے معیار پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اہل شام کے نزدیک یہ اسناد ان کے معیار پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثنا شُرَحبيل بن شَريك، عن أبي عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "قد أفلحَ مَن أسلمَ، ورُزِق كَفَافًا، وقنَّعه اللهُ بما آتاه" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7149 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7149 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اسے بقدرِ ضرورت (کفاف) رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ عطا فرمایا اس پر اسے قناعت نصیب فرما دی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔