کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: روٹی کی تکریم یہ ہے کہ (سالن وغیرہ کے لیے) اس کا انتظار نہ کرایا جائے
أخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد بن صالح (3) السَّمَرقندي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر، حدثنا محمد بن محمد بن مرزوق الباهلي، حدثنا بِشر بن المبارَك الراسِبي، قال: ذهبتُ مع جَدِّي في وَلِيمةٍ فيها غالبٌ القطّان، قال: فجِيءَ بالخِوَان فوُضِعَ، فأمسك القومُ أيديَهم، فسمعتُ غالبًا القطّان يقول: ما لهم لا يأكلون؟ قالوا: ينتظرون الأُدْمَ، فقال غالب: حدَّثتنا كريمةُ بنت همَّام الطائيّة، عن عائشة أمِّ المؤمنين، أن النبي ﷺ قال: "أَكرِموا الخبزَ"، وإنَّ كرامةَ الخبز لا يُنتظَرُ به، فأكل وأكلنا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7145 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7145 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”روٹی کا احترام کرو“، اور روٹی کا احترام یہ ہے کہ (اس کے سامنے آ جانے کے بعد سالن وغیرہ کا) انتظار نہ کیا جائے؛ (راوی کہتے ہیں کہ) پس انہوں نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا علي بن عبد الله العطّار ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا الحسين بن محمد المَرُّوذي (2)، حدثنا سليمان بن قَرْم، عن الأعمش، عن شَقيق، قال: دخلتُ أنا وصاحبٌ لي على سلمان، فقرَّب إلينا خبزًا ومِلحًا، فقال: لولا أنَّ رسولَ الله ﷺ نَهانا عن التكلُّفِ لتكلَّفتُ لكم، فقال صاحبي: لو كان في مِلْحنا سَعْترٌ، فَبَعَثَ بمِطْهرته إلى البقَّال فرَهَنَها، فجاء بسَعْتر فألقاه فيه، فلما أكلنا قال صاحبي: الحمد لله الذي قَنَّعَنا بما رَزَقَنا، فقال سلمانُ: لو قَنِعتَ بما رُزِقتَ، لم تكن مِطهَرتي مرهونةً عند البقَّال! (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ بمثل هذا الإسناد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7146 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ بمثل هذا الإسناد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7146 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرا ایک ساتھی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے ہمارے سامنے روٹی اور نمک پیش کیا اور فرمایا: اگر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تکلف کرنے سے نہ روکا ہوتا تو میں تمہارے لیے (بہتر ضیافت کا) تکلف کرتا، اس پر میرے ساتھی نے کہا: کاش ہمارے اس نمک میں «سَعْتر» (جنگلی پودینہ یا صعتر) بھی ہوتا، تو انہوں نے اپنا لوٹا دکاندار کے پاس بھیج کر اسے گروی رکھوا دیا اور صعتر لے آئے، جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے ساتھی نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس پر قناعت عطا فرمائی جو اس نے ہمیں رزق دیا، اس پر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم واقعی اپنے رزق پر قناعت کرنے والے ہوتے تو میرا لوٹا دکاندار کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا!
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔