کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی ہے
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سيَّار، حدثنا القَعْنبي وأحمد بن يونس، قالا حدثنا ابن أبي ذئب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سَلَمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: لَعَنَ رسول الله ﷺ الراشيَ والمرتشيَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديثُ المشهور عن أبي هريرة، وحديثُ ثوبان. أمّا حديثُ أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7066 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديثُ المشهور عن أبي هريرة، وحديثُ ثوبان. أمّا حديثُ أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7066 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ جہاں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ جہاں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے:
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مسدَّد، حدثنا أبو عَوَانة، عن عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: لَعَنَ رسولُ الله ﷺ الراشيَ والمرتشيَ في الحُكم (1). وأمّا حديثُ ثَوْبان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7067 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7067 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عدالتی فیصلے کے معاملات میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
فحدَّثَناه أبو عَون محمد بن أحمد بن ماهان الجزار بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا يحيى ابن (2) زكريا بن أبي زائدة، عن ليث، عن أبي زُرعة، عن ثَوْبان (3)، عن النبي ﷺ، قال: "لُعِنَ الراشي والمُرتَشي والرائشُ الذي يمشي بينهما" (4). إنما ذكرتُ عمرَ بنَ أبي سَلَمة وليث بنَ أبي سُليم في الشواهد لا في الأصول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7068 - ذكر عمر وليث في الشواهد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7068 - ذكر عمر وليث في الشواهد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور «رائش» یعنی ان دونوں کے درمیان (سودے بازی کے لیے) دوڑ دھوپ کرنے والے پر لعنت کی گئی ہے۔“ میں نے عمر بن ابی سلمہ اور لیث بن ابی سلیم کا ذکر شواہد کے طور پر کیا ہے نہ کہ بنیادی احادیث کے طور پر۔
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا الحسن بن بشر بن سَلْم، حدثنا سَعْدان بن الوليد، عن عطاء، عن ابن عباس، أن رسول الله ﷺ قال: "مَن وُلِّيَ على عشرةٍ يَحكُم بينهم بما أحبُّوا أو كَرِهوا، جيءَ به يومَ القيامة مغلولةً يدُه إلى عنقه، فإن حَكَمَ بما أنزل الله ولم يرتشِ في حُكمه، ولم يَحِفْ، فَكَّ الله عنه يومَ القيامة يومَ لا غُلَّ إِلّا غُلُّه، وإن حَكَمَ بغير ما أنزل الله وارتشَى في حُكمه وحابَى، شُدَّتْ يسارُه إلى يمينه، ثم رُميَ به في جهنم فلم يَبلُغْ قَعْرَها خمسَ مئة عام" (1). سَعْدان بن الوليد البَجَلي كوفيٌّ قليل الحديث، ولم يُخرجا عنه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو دس افراد پر حکمران یا قاضی بنایا گیا خواہ وہ اس کے فیصلے کو پسند کریں یا ناپسند، اسے قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، پس اگر اس نے اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ کیا ہوگا اور اپنے فیصلے میں رشوت نہیں لی ہوگی اور نہ ہی ناانصافی کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس بیڑی سے آزاد کر دے گا جس دن اس کی دی ہوئی آزادی کے سوا کوئی آزادی نہیں ہوگی، اور اگر اس نے اللہ کے نازل کردہ احکامات کے خلاف فیصلہ کیا ہوگا اور اپنے فیصلے میں رشوت لی ہوگی اور جانبداری برتی ہوگی تو اس کا بایاں ہاتھ دائیں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور وہ پانچ سو سال تک اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ پائے گا۔“
سعدان بن ولید بجلی کوفی قلیل الحدیث راوی ہیں اور شیخین نے ان سے روایت نہیں کی۔
سعدان بن ولید بجلی کوفی قلیل الحدیث راوی ہیں اور شیخین نے ان سے روایت نہیں کی۔
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطّار، حدثنا سهل بن عطية، قال: كنتُ عند بلال بن أبي بُردة بالطَّفّ، فجاء الدعل (2) فشكا إليه أنَّ أهلَ الطَّف لا يُؤَدُّون الزكاة، فبعث بلالٌ رجلًا يسأل عما يقولون، فوجد الرجلَ يُطعَن في نسبه، فرجع إلى بلال فأخبره، فكبَّر بلالٌ، وقال: حدثني أبي، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سَعَى بالناس فهو لغير رِشْدة، أو فيه شَيْءٌ منه" (1).
هذا حديثٌ عن بلال بن أبي بُردة له أسانيد، هذا أمثلُها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7070 - ما صححه ولم يصح
هذا حديثٌ عن بلال بن أبي بُردة له أسانيد، هذا أمثلُها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7070 - ما صححه ولم يصح
حافظ طلحہ بابر
سہل بن عطیہ سے روایت ہے کہ میں طف کے مقام پر بلال بن ابی بردہ کے پاس تھا کہ ایک شخص (دعل) آیا اور ان سے شکایت کی کہ اہل طف زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، بلال نے ایک آدمی کو ان کی بات کی تحقیق کے لیے بھیجا تو اس آدمی نے پایا کہ اس شکایت کرنے والے شخص کے نسب میں طعن کیا جاتا ہے، اس نے واپس آ کر بلال کو بتایا تو بلال نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے میرے والد نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کی برائی کے لیے دوڑ دھوپ کرے یا چغلی کھائے وہ جائز ولادت سے نہیں ہوتا یا اس میں اس کا کوئی اثر پایا جاتا ہے۔“ بلال بن ابی بردہ سے مروی اس حدیث کی کئی سندیں ہیں جن میں سے یہ سب سے بہتر ہے۔