فحدَّثَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثنا سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ولد الزِّنى، قال: "هو شَرُّ الثلاثة" (1). وأما الإسناد الثاني:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے «وَلَدُ الزِّنَا» (زنا کی اولاد) کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ جبکہ دوسری سند کے الفاظ یہ ہیں:
فأخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عمرو بن عون الواسطي، حدثنا أبو عَوَانة، عن عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ولدُ الزِّنى شَرُّ الثلاثة" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زنا کی اولاد تینوں میں سے سب سے بری ہے۔“
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن (2) عطاء. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد، عن قَتَادة، عن أنس، قال: افتخرتِ الأوسُ والخزرجُ، فقالت الأوس: منَّا مَن أُجيزت شهادتُه بشهادةِ رجلين: خُزيمةُ بن ثابت (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7056 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7056 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (انصار کے دو قبیلوں) اوس اور خزرج نے ایک دوسرے پر فخر کیا، تو قبیلہ اوس نے کہا: ہم میں وہ شخصیت موجود ہیں جن کی تنہا گواہی کو دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا گیا، یعنی خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا محمد بن مسروق، عن إسحاق بن الفُرات، عن ليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ رَدَّ اليمينَ على طالب الحقِّ (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7057 - لا أعرف محمدا وأخشى أن لا يكون الحديث باطلا
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7057 - لا أعرف محمدا وأخشى أن لا يكون الحديث باطلا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حق کے طالب (مدعی) پر قسم لوٹا دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔