کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے سوائے اس کے جو حلال کو حرام کر دے
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن كَثير بن زيد، عن الوليد بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أن رسول الله ﷺ قال: "الصُّلحُ جائزٌ بينَ المسلمين" (1). شاهدُه حديث عَمرو بن عوف (2)، وبه يعرف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7058 - منكر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7058 - منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔“ اس حدیث کی شاہد سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، اور اسی کے ذریعے یہ (معنی) پہچانا جاتا ہے:
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حبيب، حدثنا خالد بن مَخلَد، حدثنا كَثير بن عبد الله بن عمرو بن عَوف، عن أبيه، عن جدِّه، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "الصُّلحُ جائزٌ بين المسلمين، إلَّا صلحًا حَرَّمَ حلالًا أو أحَلَّ حرامًا، والمسلمون على شُروطهم إلَّا شرطًا حَرَّمَ حلالًا" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7059 - واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7059 - واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے، اور مسلمان اپنی (طے کردہ) شرائط پر قائم ہیں سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے۔“
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن حَيَّان، حدثنا إبراهيم بن معاوية أبو إسحاق الكَرابيسي، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن ابن كعب بن مالك، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ حَجَرَ على معاذ بن جبل مالَه، وباعه بدَينٍ كان عليه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7060 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7060 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مال (قرض کی وجہ سے) روک لیا تھا، اور اسے اس قرض کی ادائیگی کے لیے فروخت کر دیا تھا جو ان کے ذمہ واجب الادا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا كان على عهدِ رسولِ الله ﷺ يبتاعُ، وكان في عُقْدته ضعفٌ، فأتَى أهلُه رسولَ الله ﷺ، فقالوا: يا نبيَّ الله، احجُزْ على فلان، فإنه يبتاعُ وفي عُقدتِه ضعفٌ، فدعاه نبيُّ الله ﷺ، فنهاه عن البيع، قال: يا نبيَّ الله، إني لا أصبِرُ عن البيع، فقال: "إن كنتَ غيرَ تاركٍ البيعَ، فقُلْ: ها ولا خِلَابةَ" (2). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7061 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7061 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور اس کے معاملے (یعنی عقل یا فیصلے کی قوت) میں کچھ کمزوری تھی، اس کے گھر والے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! فلاں شخص پر (کاروبار کی) پابندی لگا دیں کیونکہ وہ سودا کرتا ہے اور اس کی فہم و فراست میں کمزوری ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے بیع کرنے سے منع فرما دیا، اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں تجارت کے بغیر صبر نہیں کر سکتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے بیع کرنا نہیں چھوڑنا تو (سودا کرتے وقت) یہ کہہ دیا کرو: «هَا وَلَا خِلَابَةَ» ”یہ لو اور اس میں کوئی دھوکہ نہیں ہونا چاہیے“۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔