کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے باطل کی مدد کی، وہ اللہ کے عہد و ذمہ سے نکل گیا
حدثنا جعفر بن محمد بن نُصير الخُلْدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عارمٌ أبو النعمان، حدثنا معتمر بن سليمان، قال: سمعتُ أبي يحدِّث عن حَنَش، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: من أعانَ باطلًا ليُدحِضَ بباطله حقًّا، فقد بَرِئَت منه ذِمَّةُ الله وذِمَّةُ رسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7052 - حنش الرحبي ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7052 - حنش الرحبي ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس نے کسی باطل (ناحق معاملے) کی مدد کی تاکہ اس کے ذریعے حق کو مٹا دے، تو یقیناً وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ و پناہ سے نکل گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا جعفر بن محمد بن جعفر المَدَائني، حدثنا عَبّاد بن العوّام، عن سفيان الثَّوري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "ليس (1) على ولدِ الزنى مِن وِزْرِ أبويه شيءٌ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّ ضِدُّه بإسنادين صحيحين، أما الإسنادُ الأول:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7053 - صحيح وصح ضده
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّ ضِدُّه بإسنادين صحيحين، أما الإسنادُ الأول:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7053 - صحيح وصح ضده
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولد الزنا (بدکاری سے پیدا ہونے والے بچے) پر اس کے والدین کے گناہ کا کوئی بوجھ نہیں ہے“ (جیسا کہ قرآن میں ہے): ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [سورة الأنعام: 164]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کے برعکس (معلوم ہونے والی بات) بھی دو صحیح سندوں سے ثابت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کے برعکس (معلوم ہونے والی بات) بھی دو صحیح سندوں سے ثابت ہے۔