المستدرك على الصحيحين
كتاب الأحكام— احکام کا بیان
وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ باب: ولد الزنا (بدکاری کی اولاد) تینوں میں سب سے بدتر ہے
حدیث نمبر: 7231
فحدَّثَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثنا سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ولد الزِّنى، قال: "هو شَرُّ الثلاثة" (1). وأما الإسناد الثاني:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے «وَلَدُ الزِّنَا» (زنا کی اولاد) کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ جبکہ دوسری سند کے الفاظ یہ ہیں:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي وسهيل: هو ابن أبي صالح السمان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: راویوں کے نام: ابو حذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود نہدی اور سہیل سے مراد سہیل بن ابی صالح السمان ہیں۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح المشكل" (607)، والبيهقي 10/ 58 من طريقين عن أبي حذيفة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (607) میں اور بیہقی نے (10/ 58) میں ابو حذیفہ کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف من طريق سفيان الثوري برقم (2889).
متابعات و شواہد: یہ روایت پہلے سفیان ثوری کے طریق سے رقم (2889) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: راویوں کے نام: ابو حذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود نہدی اور سہیل سے مراد سہیل بن ابی صالح السمان ہیں۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح المشكل" (607)، والبيهقي 10/ 58 من طريقين عن أبي حذيفة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (607) میں اور بیہقی نے (10/ 58) میں ابو حذیفہ کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف من طريق سفيان الثوري برقم (2889).
متابعات و شواہد: یہ روایت پہلے سفیان ثوری کے طریق سے رقم (2889) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7231 سے ماخوذ ہے۔