حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا شِهاب بن عبّاد، حدثنا عبد الله بن بُكير، عن حَكيم بن جُبير، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، عن النبيِّ ﷺ قال: "القضاةُ ثلاثةٌ: قاضيانِ في النار، وقاضٍ في الجنة: قاضٍ عَرَفَ الحقَّ فقضَى به فهو في الجنة، وقاضٍ عَرَفَ الحقَّ فجارَ متعمِّدًا فهو في النَّار، وقاض قَضَى بغير علمٍ فهو في النَّار" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسنادٍ صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7012 - ابن بكير الغنوي منكر الحديث قال وله شاهد صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسنادٍ صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7012 - ابن بكير الغنوي منكر الحديث قال وله شاهد صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قاضی (جج) تین طرح کے ہوتے ہیں: دو آگ میں ہوں گے اور ایک جنت میں؛ وہ قاضی جس نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنت میں ہے، وہ قاضی جس نے حق کو پہچانا لیکن جان بوجھ کر فیصلے میں ظلم کیا وہ آگ میں ہے، اور وہ قاضی جس نے بغیر علم کے (نادانی میں) فیصلہ کیا وہ بھی آگ میں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه محمد بن عليّ بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو غسّان وعلي بن حَكيم، حدثنا شَريك، عن الأعمش، عن سَعْد (1) بن عُبيدة، عن ابن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "قاضيانِ في النَّار، وقاضٍ في الجنَّة: قاضٍ قَضَى بالحقِّ فهو في الجنَّة، وقاضٍ قَضَى بِجَوْرٍ فهو في النَّار، وقاضٍ قَضَى بجهلِه فهو في النَّار"، قالوا: فما ذنبُ هذا الذي يَجهلُ؟ قال: "ذَنْبُه أن لا يكون قاضيًا حتى يَعلَم" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7013 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7013 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو قاضی آگ میں ہوں گے اور ایک قاضی جنت میں؛ وہ قاضی جس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنت میں ہے، وہ قاضی جس نے ظلم کے ساتھ فیصلہ کیا وہ آگ میں ہے، اور وہ قاضی جس نے اپنی جہالت کی وجہ سے فیصلہ کیا وہ آگ میں ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس شخص کا کیا گناہ جو جاہل ہے (کیونکہ اس نے تو نادانی میں کیا)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا گناہ یہ ہے کہ وہ اس وقت تک قاضی کے منصب پر کیوں بیٹھا جب تک اسے علم حاصل نہ تھا۔“
اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن عمَّار الدُّهْني (3) [عن إسماعيل بن إبراهيم] (4) عن ابنة مَعقِلٍ، عن أبيها قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من أحدٍ يكونُ على شيء من أمور هذه الأمّةِ، قلَّتْ أم كَثُرَتْ، فَلا يَعدِلُ فيهِم إِلَّا أَكبَّه الله في النَّار" (5). هذه أمُّ مَعْقِل بنت مَعقِل بن سِنَان الأشجعي، وهو صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7014 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7014 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی کو بھی اس امت کے معاملات میں سے کسی چیز کا ذمہ دار بنایا جائے، چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اور وہ ان کے درمیان انصاف نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اوندھا گرا دے گا۔“
یہ معقل بن سنان اشجعی کی بیٹی ام معقل ہیں، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ معقل بن سنان اشجعی کی بیٹی ام معقل ہیں، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا عاصم بن بَهْدلة، عن يزيد بن شَرِيك: أنَّ الضَّحّاك بن قيس بَعَثَ معه بكِسْوة إلى مروان بن الحَكَم، فقال مروان للبوَّاب: انظُرْ من بالباب، قال: أبو هريرة، فأَذِن له، فقال: يا أبا هريرة، حدَّثْنا شيئًا سمعتَه من رسول الله ﷺ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لَيُوشِكُ رجلٌ أن يَتمنَّى أنه خَرَّ من الثُّريّا ولم يَلِ من أمر النَّاس شيئًا" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7015 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7015 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا یزید بن شریک سے مروی ہے کہ سیدنا ضحاک بن قیس نے انہیں مروان بن حکم کی طرف لباس دے کر بھیجا، مروان نے دربان سے پوچھا کہ دروازے پر کون ہے؟ اس نے کہا: ابوہریرہ، چنانچہ انہوں نے مروان کو اطلاع دی اور انہوں نے اجازت دے دی، مروان نے کہا: اے ابوہریرہ! ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا (ستارے) سے نیچے گر پڑتا مگر اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری (حکمرانی) نہ لی ہوتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الأُستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن عبّاد (1) ابن أبي علي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال: "ويلٌ للأمراءِ وويلٌ للعُرفاء، وويلٌ للأمناء، لَيتمنَّينَّ أقوامٌ يومَ القيامة أنَّ ذوائبَهم كانت معلَّقةً بالثُّريا يَدَّلْدَلُون بينَ السماءِ والأرض، وأنهم لم يَلُوا عملًا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7016 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7016 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”امراء (حکمرانوں)، عرفاء (نگرانوں) اور امانت داروں کے لیے ہلاکت ہے، قیامت کے دن کچھ لوگ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کی پیشانی کے بال ثریا (ستارے) سے بندھے ہوئے ہوتے اور وہ آسمان و زمین کے درمیان لٹک رہے ہوتے مگر انہوں نے کسی عہدے یا کام کی ذمہ داری نہ لی ہوتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئُ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن سالم بن أبي سالم الجَيشاني، عن أبيه، عن أبي ذَرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ: "يا أبا ذَرٍّ، إني أراك ضعيفًا، فلا تَأَمَّرَنَّ على اثنينِ، ولا تَوَلَّيَنَّ مالَ يتيم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7017 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7017 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں (عہدوں کے لحاظ سے) کمزور پاتا ہوں، پس تم ہرگز دو آدمیوں کے امیر نہ بننا اور نہ ہی کسی یتیم کے مال کی سرپرستی کرنا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔