المستدرك على الصحيحين
كتاب الأحكام— احکام کا بیان
قَاضِيَانِ فِي النَّارِ وَقَاضٍ فِي الْجَنَّةِ باب: دو قاضی جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا
حدیث نمبر: 7189
أخبرَناه محمد بن عليّ بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو غسّان وعلي بن حَكيم، حدثنا شَريك، عن الأعمش، عن سَعْد (1) بن عُبيدة، عن ابن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "قاضيانِ في النَّار، وقاضٍ في الجنَّة: قاضٍ قَضَى بالحقِّ فهو في الجنَّة، وقاضٍ قَضَى بِجَوْرٍ فهو في النَّار، وقاضٍ قَضَى بجهلِه فهو في النَّار"، قالوا: فما ذنبُ هذا الذي يَجهلُ؟ قال: "ذَنْبُه أن لا يكون قاضيًا حتى يَعلَم" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7013 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو قاضی آگ میں ہوں گے اور ایک قاضی جنت میں؛ وہ قاضی جس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنت میں ہے، وہ قاضی جس نے ظلم کے ساتھ فیصلہ کیا وہ آگ میں ہے، اور وہ قاضی جس نے اپنی جہالت کی وجہ سے فیصلہ کیا وہ آگ میں ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس شخص کا کیا گناہ جو جاہل ہے (کیونکہ اس نے تو نادانی میں کیا)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا گناہ یہ ہے کہ وہ اس وقت تک قاضی کے منصب پر کیوں بیٹھا جب تک اسے علم حاصل نہ تھا۔“
اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سعيد.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'سعید' لکھا گیا ہے (جبکہ درست نام کچھ اور ہے)۔
(2) حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن من أجل شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وهو متابع أبو غسان: هو مالك بن إسماعيل النَّهدي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث شواہد کی بنا پر 'صحیح' ہے، جبکہ اس کی موجودہ سند شریک بن عبد اللہ النخعی کی وجہ سے 'حسن' ہے۔
فنی نکتہ / علّت: شریک کی یہاں متابعت کی گئی ہے۔ 'ابو غسان' سے مراد مالک بن اسماعیل النہدی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1322) من طريق الحسن بن بشر، عن شريك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (1322) نے حسن بن بشر کے واسطے سے شریک سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
نوٹ / توضیح: اس سے پہلی روایت بھی ملاحظہ کریں۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'سعید' لکھا گیا ہے (جبکہ درست نام کچھ اور ہے)۔
(2) حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن من أجل شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وهو متابع أبو غسان: هو مالك بن إسماعيل النَّهدي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث شواہد کی بنا پر 'صحیح' ہے، جبکہ اس کی موجودہ سند شریک بن عبد اللہ النخعی کی وجہ سے 'حسن' ہے۔
فنی نکتہ / علّت: شریک کی یہاں متابعت کی گئی ہے۔ 'ابو غسان' سے مراد مالک بن اسماعیل النہدی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1322) من طريق الحسن بن بشر، عن شريك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (1322) نے حسن بن بشر کے واسطے سے شریک سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
نوٹ / توضیح: اس سے پہلی روایت بھی ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7189 سے ماخوذ ہے۔