المستدرك على الصحيحين
كتاب الأحكام— احکام کا بیان
ذِكْرُ سِتَّةٍ لَعَنَهُمُ اللَّهُ باب: ان چھ افراد کا ذکر جن پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے
حدثنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي المَوَالي، عن عُبيد الله بن مَوْهَب، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسولُ الله ﷺ: " [ستةٌ] (1) لعنتُهم لَعَنَهم اللهُ وكلُّ نبيٍّ مُجاب: المُكذِّبُ بقدر الله، والزائدُ في كتاب الله، والمُتسلِّطُ بالجَبَروت ليُذِلَّ ما أعزَّ الله، ويُعزَّ ما أذلَّ الله، والمُستحلُّ لحُرَمِ الله، والمستحلُّ من عِتْرتي ما حرَّم الله، والتاركُ لسُنَّتي" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7011 - الحديث منكر بمرةام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھ لوگ ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی ہے اور اللہ نے بھی ان پر لعنت فرمائی ہے اور ہر اس نبی نے بھی جس کی دعا مقبول ہوتی ہے: اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا، اپنی طاقت و جبر کے ذریعے غلبہ پا کر اسے ذلیل کرنے والا جسے اللہ نے عزت دی ہو اور اسے عزت دینے والا جسے اللہ نے ذلیل کیا ہو، اللہ کی حرمتوں کو حلال سمجھنے والا، میری آل و اولاد کے متعلق ان چیزوں کو حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے، اور میری سنت کو چھوڑ دینے والا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: یہ لفظ 'نسخہ محمودیہ' سے لیا گیا ہے جیسا کہ میمان کی طبع میں موجود ہے، اور یہ سابقہ روایت نمبر (102) سے ماخوذ ہے۔
(2) إسناده ضعيف، وقد سلف بيانه برقم (102)
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی تفصیل حدیث نمبر (102) کے تحت گزر چکی ہے۔