کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قریش کی محبت اہل زمین کے لیے امن ہے
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، فيما قرأتُه عليه من أصلِ كتابه، أخبرنا محمد بن أحمد بن الوليد الكَرَابيسي ببغداد، حدَّثنا إسحاق بن سعيد بن الأُرْكُون الدِّمشقي، حدَّثنا خُلَيد بن دَعْلَج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "أمان أهلِ الأرض من الاختلافِ المُوالاة لقريشٍ، قريشٌ أهلُ الله، أهلُ آلاءِ الله، فإذا خالفَتْها قبيلةٌ من العرب صاروا (1) حِزبَ إبليسَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6959 - واه وفي إسناده ضعيفان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل زمین کے لیے اختلاف سے بچنے کا ذریعہ قریش سے محبت و وابستگی ہے، قریش اللہ والے اور اللہ کی نعمتوں کے امین ہیں، پس جب بھی عرب کا کوئی قبیلہ ان کی مخالفت کرے گا تو وہ ابلیس کے گروہ میں شامل ہو جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7135
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف من أجل ابن الأُركون وشيخه خليد بن دَعلج كما سلف بيانه برقم (4766).» [ترقيم الرساله 7135] [ترقيم الشركة 7054] [ترقيم العلميه 6959]
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدَّثنا محمد بن طَريف البَجَلي، حدَّثنا محمد بن فُضَيل، عن الأعمش، عن أبي سَبْرة النَّخَعي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن العباس بن عبد المطَّلب قال: كُنَّا نلقَى النَّفرَ من قريش وهم يتحدَّثون، فيَقطَعونَ حديثَهم، فذَكَرنا ذلك لرسولِ الله ﷺ، فقال: "ما بالُ أقوامٍ يتحدَّثون، فإذا رأَوُا الرجلَ من أهلي قَطعُوا حديثَهم؟! والله لا يدخُلُ قلبَ رجلٍ الإيمانُ حتى يُحِبَّهم لله تعالى ولِقَرابتي" (1).
هذا حديث يُعرَف من حديث يزيد بن أبي زياد عن عبد الله بن الحارث عن العبّاس، فإذا حصل هذا الشاهدُ من حديث ابن فُضيل عن الأعمش، حكمنا له بالصِّحة. وأما حديثُ يزيد بن أبي زياد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم قریش کی کسی جماعت کے پاس سے گزرتے جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے، تو وہ (ہمیں دیکھ کر) اپنی بات چیت بند کر دیتے، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جب وہ میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو اپنی بات چیت کا سلسلہ توڑ دیتے ہیں؟! اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان (اہل بیت) سے اللہ کی رضا کے لیے اور میری قرابت کی وجہ سے محبت نہ کرے۔“
یہ حدیث یزید بن ابی زیاد کی سند سے بھی معروف ہے، اور جب ابن فضیل کی الاعمش سے مروی اس روایت کے ذریعے اس کی تائید (شاہد) مل گئی تو ہم نے اس کی صحت کا حکم لگا دیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7136
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو سبرة النخعي روى عنه ثلاثة، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال ابن معين: لا أعرفه، وقد انفرد بهذا الطريق، ومحمد بن كعب لم يدرك العباس بن عبد المطلب.» [ترقيم الرساله 7136] [ترقيم الشركة 7055]
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا يعلى بن عُبيد، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العبّاس بن عبد المطَّلب قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إذا لَقِيَ قريشٌ بعضُها بعضًا لَقُوا بالبِشَارة، وإذا لَقِيناهم لَقُونا بوجوهٍ لا نعرفُها، قال: فغضِبَ غضبًا شديدًا، ثم قال: "والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يدخُلُ قلبَ رجلٍ الإيمانُ حتى يُحِبَّكم لله ولرسولِه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6961 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قریش جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خوشدلی اور مسرت کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن جب ہم سے ملتے ہیں تو ان کے چہرے بدلے ہوئے ہوتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر آپ ﷺ شدید غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7137
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف. وقد سبق بيانه وتخريجه عند الرواية (5521).» [ترقيم الرساله 7137] [ترقيم الشركة 7056] [ترقيم العلميه 6961]
حدَّثنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدَّثنا أبو حاتم الرازي، حدَّثنا الفَيْضُ بن الفضل البَجَلي، حدَّثنا مِسعَر بن كِدَام، عن سَلَمة بن كُهيل، عن أبي صادق، عن ربيعة بن ناجِذ، عن علي بن أبي طالب قال: قال رسولُ الله ﷺ: "الأئمةُ من قريش، أبرارُها أمراءُ أبرارِها، وفُجَّارُها أُمراءُ فجَّارِها، ولكلٍّ حقٌّ، فآتُوا كلَّ ذي حقٍّ حقَّه، وإن أمَّرتُ عليكم عبدًا حبشيًّا مُجدَّعًا فاسمعوا له وأطيعوا، ما لم يُخيِّرْ أحدَكم بين إسلامِه وضَرْبِه عُنقَه، فإن خُيِّرَ بين إسلامِه وضَرْبِه عُنقَه، فليُقدِّم عُنقَه، فإنه لا دُنيا له ولا آخرةَ بعد إسلامِه" (3) ذكرُ فَضْل المهاجرين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6962 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حکمران (ائمہ) قریش میں سے ہوں گے، ان کے نیک لوگ نیکوں کے امیر ہوں گے اور ان کے گناہ گار لوگ گناہ گاروں کے امیر ہوں گے، اور (رعایا و حکمران) ہر ایک کا حق ہے، پس ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو، اور اگر میں تم پر کسی نک کٹے حبشی غلام کو بھی امیر مقرر کر دوں تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو جب تک کہ وہ تمہیں تمہارے اسلام اور تمہاری گردن مارے جانے کے درمیان اختیار نہ دے (یعنی کفر پر مجبور نہ کرے)، پس اگر اسے اسلام (چھوڑنے) اور گردن مارے جانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو وہ اپنی گردن پیش کر دے، کیونکہ اسلام (کے ضائع ہونے) کے بعد اس کے لیے نہ دنیا کی کوئی قدر ہے اور نہ آخرت کی۔“
مہاجرین کے فضائل کا تذکرہ۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، الفيض بن الفضل روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وقد خولف في رفعه، واختلف فيه أيضًا على مسعر بن كدام، وعلى أبي صادق - وهو الأزدي الكوفي - كما سيأتي. والموقوف أصحُّ كما قال الدارقطني في "العلل" (359)، وربيعة بن ناجذ لم يذكروا عنه راويًا غير ...» [ترقيم الرساله 7138] [ترقيم الشركة 7057] [ترقيم العلميه 6962]