حدیث نمبر: 7135
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، فيما قرأتُه عليه من أصلِ كتابه، أخبرنا محمد بن أحمد بن الوليد الكَرَابيسي ببغداد، حدَّثنا إسحاق بن سعيد بن الأُرْكُون الدِّمشقي، حدَّثنا خُلَيد بن دَعْلَج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "أمان أهلِ الأرض من الاختلافِ المُوالاة لقريشٍ، قريشٌ أهلُ الله، أهلُ آلاءِ الله، فإذا خالفَتْها قبيلةٌ من العرب صاروا (1) حِزبَ إبليسَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6959 - واه وفي إسناده ضعيفان
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل زمین کے لیے اختلاف سے بچنے کا ذریعہ قریش سے محبت و وابستگی ہے، قریش اللہ والے اور اللہ کی نعمتوں کے امین ہیں، پس جب بھی عرب کا کوئی قبیلہ ان کی مخالفت کرے گا تو وہ ابلیس کے گروہ میں شامل ہو جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7135
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف من أجل ابن الأُركون وشيخه خليد بن دَعلج كما سلف بيانه برقم (4766).» [ترقيم الرساله 7135] [ترقيم الشركة 7054] [ترقيم العلميه 6959]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز) و (ب): صار.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں "صار" کا لفظ لکھا ہوا ہے۔
(2) إسناده تالف من أجل ابن الأُركون وشيخه خليد بن دَعلج كما سلف بيانه برقم (4766).
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (انتہائی ساقط/ناقابلِ اعتبار) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "ابن الارکون" اور ان کے استاد "خلید بن دعلج" ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (4766) میں تفصیل گزر چکی ہے۔
ووهَّاه الذهبي في "التخليص" وقال: في إسناده ضعيفان.
درجۂ حدیث: امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے "واہی" (انتہائی کمزور) قرار دیا ہے اور فرمایا کہ اس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7135 سے ماخوذ ہے۔