المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مُوَالَاةُ قُرَيْشٍ أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ باب: قریش کی محبت اہل زمین کے لیے امن ہے
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدَّثنا محمد بن طَريف البَجَلي، حدَّثنا محمد بن فُضَيل، عن الأعمش، عن أبي سَبْرة النَّخَعي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن العباس بن عبد المطَّلب قال: كُنَّا نلقَى النَّفرَ من قريش وهم يتحدَّثون، فيَقطَعونَ حديثَهم، فذَكَرنا ذلك لرسولِ الله ﷺ، فقال: "ما بالُ أقوامٍ يتحدَّثون، فإذا رأَوُا الرجلَ من أهلي قَطعُوا حديثَهم؟! والله لا يدخُلُ قلبَ رجلٍ الإيمانُ حتى يُحِبَّهم لله تعالى ولِقَرابتي" (1).
هذا حديث يُعرَف من حديث يزيد بن أبي زياد عن عبد الله بن الحارث عن العبّاس، فإذا حصل هذا الشاهدُ من حديث ابن فُضيل عن الأعمش، حكمنا له بالصِّحة. وأما حديثُ يزيد بن أبي زياد:
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم قریش کی کسی جماعت کے پاس سے گزرتے جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے، تو وہ (ہمیں دیکھ کر) اپنی بات چیت بند کر دیتے، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جب وہ میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو اپنی بات چیت کا سلسلہ توڑ دیتے ہیں؟! اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان (اہل بیت) سے اللہ کی رضا کے لیے اور میری قرابت کی وجہ سے محبت نہ کرے۔“
یہ حدیث یزید بن ابی زیاد کی سند سے بھی معروف ہے، اور جب ابن فضیل کی الاعمش سے مروی اس روایت کے ذریعے اس کی تائید (شاہد) مل گئی تو ہم نے اس کی صحت کا حکم لگا دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ ابو سبرہ نخعی سے صرف تین لوگوں نے روایت کی ہے، ابن حبان نے انہیں ثقات میں تو رکھا مگر ابن معین نے کہا "میں انہیں نہیں جانتا"۔ نیز محمد بن کعب القرظی کا حضرت عباس بن عبد المطلب سے "ادراک" (ملاقات/سماع) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (140) عن محمد بن طريف، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ابن ماجہ نے (140) میں اسے محمد بن طریف کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔