حدَّثنا أبو زكريا العَنْبري وأبو بكر بن جعفر المُزكَّي في آخرينَ، حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدَّثنا عُبيد الله بن محمد بن حفص بن عمر بن موسى بن عبيد الله بن مَعمَر التَّيمي، قال: سمعتُ أبي يقول: سمعتُ عمِّي عبيدَ الله (2) بن عمر بن موسى يقول: حدَّثنا رَبيعةُ بن أبي عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن عمرو بن عثمان بن عفان قال: قال لي أَبي: يا بُنيَّ، إن وَلِيتَ من أمر الناس شيئًا، فأكرِمْ قريشًا، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من أهانَ قريشًا أهانَه الله ﷿" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6955 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6955 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عثمان بن عفان اپنے والد (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تمہیں لوگوں کے کسی معاملے کا والی و ذمہ دار بنایا جائے تو قریش کی تکریم و عزت کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے قریش کی اہانت (تذلیل) کی، اللہ عزوجل اسے رسوا کر دے گا۔“
أخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المُزكِّي بمَرْو من أصلِ كتابه، حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدَّثنا إبراهيم بن سعد، حدثني صالح بن كَيْسان، عن ابن شِهاب، عن محمد بن أبي سفيان بن العلاء بن جاريةَ الثَّقفي، عن يوسف بن الحَكَم أبي الحجَّاج بن يوسف، عن محمد بن سعد بن أبي وقَّاص، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "من يُرِدْ هَوَانَ قريشٍ أهانَه الله" (1) وقد روى هذا الحديثَ الليثُ بن سعد عن يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد عن إبراهيم بن سعد، وهو من غُرَر (1) الحديث فيما رواه الأكابرُ عن الأصاغر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6956 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6956 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا محمد بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قریش کی رسوائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ذلیل و خوار کر دے گا۔“
اس حدیث کو امام لیث بن سعد نے بھی روایت کیا ہے، اور یہ ان بہترین احادیث میں سے ہے جنہیں بڑے ائمہ نے اپنے سے چھوٹوں سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام لیث بن سعد نے بھی روایت کیا ہے، اور یہ ان بہترین احادیث میں سے ہے جنہیں بڑے ائمہ نے اپنے سے چھوٹوں سے روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه وأبو إسحاق القارئ وأبو الحسن العَنَزي، قالوا: حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدَّثنا عبد الله بن صالح ويحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدَّثنا الليث بن سعد، حدثني ابن الهاد، عن إبراهيم بن سعد، عن صالح بن كَيْسان، عن ابن شِهاب، عن محمد بن أبي سفيان، عن يوسف بن أبي عقيل، عن سعد بن أبي وقَّاص قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من يُرِدْ هَوَانَ قريشٍ أهانَه الله ﷿" (2). يوسفُ بن أبي عَقيل: هو ابن الحَكَم بلا شكٍّ، وقد صحَّتِ الروايةُ عن رسول الله ﷺ: أنَّ الولد لا يَجْني على أبيه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص قریش کی رسوائی و اہانت کا ارادہ کرے گا، اللہ عزوجل اسے ذلیل و رسوا کر دے گا۔“ اس روایت میں یوسف بن ابی عقیل سے مراد بلا شک یوسف بن حکم ہی ہیں، اور رسول اللہ ﷺ سے یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے کہ بیٹا اپنے باپ کے جرم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حدَّثنا أبو قلابة الرَّقَاشي، حدَّثنا أبو حُذيفة، حدَّثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن حمزة بن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول على المنبر: "ما بالُ أقوامٍ يقولون: إنَّ رَحِمي لا تنفعُ؟ بلى والله، إِنَّ رَحِمي موصولةٌ في الدنيا والآخرة. وإنِّي أيها الناس فَرَطُكم على الحوض، فإذا جئتُ قام رجالٌ، فقال هذا: يا رسولَ الله، أنا فلانٌ، وقال هذا: يا رسولَ الله، أنا فلانٌ، وقال هذا: يا رسولَ الله، أنا فلانٌ (2)، فأقولُ: قد عرفتُكم، ولكنَّكم أحدَثتُم بعدي ورجعتُم القَهْقَرى" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6958 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6958 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حمزہ بن ابی سعید خدری اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میرا رشتہ (قرابت) نفع نہیں دے گا؟ کیوں نہیں، اللہ کی قسم! میرا رشتہ و قرابت دنیا اور آخرت (دونوں) میں جڑا ہوا ہے۔ اور اے لوگو! میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو (استقبال کرنے والا) ہوں گا، پس جب میں وہاں ہوں گا تو کچھ لوگ کھڑے ہوں گے، ان میں سے کوئی کہے گا: یا رسول اللہ! میں فلاں ہوں، اور کوئی کہے گا: یا رسول اللہ! میں فلاں ہوں، تو میں کہوں گا: میں نے تمہیں پہچان لیا ہے لیکن تم نے میرے بعد (دین میں) نئی چیزیں نکال لی تھیں اور تم الٹے قدموں (پچھلے دین کی طرف) پھر گئے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔