المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مُوَالَاةُ قُرَيْشٍ أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ باب: قریش کی محبت اہل زمین کے لیے امن ہے
حدیث نمبر: 7137
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا يعلى بن عُبيد، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العبّاس بن عبد المطَّلب قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إذا لَقِيَ قريشٌ بعضُها بعضًا لَقُوا بالبِشَارة، وإذا لَقِيناهم لَقُونا بوجوهٍ لا نعرفُها، قال: فغضِبَ غضبًا شديدًا، ثم قال: "والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يدخُلُ قلبَ رجلٍ الإيمانُ حتى يُحِبَّكم لله ولرسولِه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6961 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قریش جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خوشدلی اور مسرت کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن جب ہم سے ملتے ہیں تو ان کے چہرے بدلے ہوئے ہوتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر آپ ﷺ شدید غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف. وقد سبق بيانه وتخريجه عند الرواية (5521).
درجۂ حدیث: "حسن لغیرہ" ہے اگرچہ یہ سند ضعیف ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کی تفصیل اور تخریج پہلے روایت نمبر (5521) کے تحت گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: "حسن لغیرہ" ہے اگرچہ یہ سند ضعیف ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کی تفصیل اور تخریج پہلے روایت نمبر (5521) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7137 سے ماخوذ ہے۔