کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ ام المؤمنین جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سليمان المَوصلي، حدّثنا علي بن حرب الموصليّ، حدّثنا سفيان بن عُيَينة، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد قال: قالت جُوَيريَةُ بنتُ الحارث لرسول الله ﷺ: إِنَّ أزواجك يَفخَرْنَ عليَّ يَقُلنَ: لم يتزوَّجْكِ رسولُ الله ﷺ، إنما أنت مِلكُ يمينٍ، فقال رسول الله ﷺ: "ألم أُعْظِمْ صَدَاقَكِ؟ ألم أُعتِقْ أربعين رَقَبةً (1) من قومِك؟ " (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6778 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6778 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مجاہد سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: ”آپ کی دیگر ازواج مجھ پر فخر کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ سے (آزاد خاتون کے طور پر) نکاح نہیں کیا بلکہ آپ تو صرف ان کی ملکیت (لونڈی) ہیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہارا مہر زیادہ نہیں کیا؟ کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو (تمہاری خاطر) آزاد نہیں کیا؟“
حدّثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن عائشة قالت: لما أصابَ رسول الله ﷺ سَبايا بني المُصطَلِق، وقعت جويريةُ بنت الحارث بن أبي ضِرار في السَّهم لثابتِ بن قيس بن الشمَّاس، فكاتبَتْه على نفسِها، وكانت امرأةً حُلوةً مليحةً لا يكادُ يراها أحدٌ إلَّا أخذت بنفسه، قال: فأتت رسول الله ﷺ تستعينُ به على كِتابتها (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6779 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6779 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کو بنو مصطلق کے قیدی حاصل ہوئے تو سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، چنانچہ انہوں نے اپنی آزادی کے لیے مکاتبت (رقم کی ادائیگی کا معاہدہ) کر لی، وہ ایک حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا، چنانچہ وہ اپنی مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مدد لینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔
وحدثنا أبو عبد الله الأصبهانيّ، حدّثنا الحسن بن الجَهْم، حدّثنا الحسين بن الفَرَج، حدّثنا محمد بن عمر قال: وجويريةُ بنت الحارث بن أبي ضِرار بن حَبيب بن عائذ بن مالك بن جَذِيمة هو المُصطلق (1) من (2) خُزاعة، تزوَّجها مُسافِع بن صفوان، فقُتل يومَ المُرَيسيع.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عائذ بن مالک بن جذیمہ (جو کہ بنو مصطلق کہلاتے ہیں اور قبیلہ خزاعہ سے ہیں) کا نکاح مسافع بن صفوان سے ہوا تھا، جو مریسع کے دن قتل ہو گیا تھا۔