المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - باب: سیدہ ام المؤمنین جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6942
حدّثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن عائشة قالت: لما أصابَ رسول الله ﷺ سَبايا بني المُصطَلِق، وقعت جويريةُ بنت الحارث بن أبي ضِرار في السَّهم لثابتِ بن قيس بن الشمَّاس، فكاتبَتْه على نفسِها، وكانت امرأةً حُلوةً مليحةً لا يكادُ يراها أحدٌ إلَّا أخذت بنفسه، قال: فأتت رسول الله ﷺ تستعينُ به على كِتابتها (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6779 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کو بنو مصطلق کے قیدی حاصل ہوئے تو سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، چنانچہ انہوں نے اپنی آزادی کے لیے مکاتبت (رقم کی ادائیگی کا معاہدہ) کر لی، وہ ایک حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا، چنانچہ وہ اپنی مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مدد لینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن، ومحمد بن إسحاق قد صرّح بالتحديث عند غير المصنّف، فانتفت شبهة تدليسه. وأخرجه مطولًا أحمد (43/ 26365)، وأبو داود (3931)، وابن حبان (4054) و (4055) من طرق عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق نے مصنف کے علاوہ دیگر محدثین کے ہاں سماع کی تصریح (حدثنی وغیرہ) کر دی ہے، لہٰذا ان کی تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (43/ 26365)، ابو داود (3931) اور ابن حبان (4054، 4055) نے محمد بن اسحاق کے طرق سے اسی سند کے ساتھ طویل روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه مطولًا برقم (6944) من طريق ابن ثوبان عن عائشة.
نوٹ / توضیح: اسی طرح کی طویل روایت نمبر (6944) پر ابن ثوبان عن عائشہ کے طریق سے آئے گی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق نے مصنف کے علاوہ دیگر محدثین کے ہاں سماع کی تصریح (حدثنی وغیرہ) کر دی ہے، لہٰذا ان کی تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (43/ 26365)، ابو داود (3931) اور ابن حبان (4054، 4055) نے محمد بن اسحاق کے طرق سے اسی سند کے ساتھ طویل روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه مطولًا برقم (6944) من طريق ابن ثوبان عن عائشة.
نوٹ / توضیح: اسی طرح کی طویل روایت نمبر (6944) پر ابن ثوبان عن عائشہ کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6942 سے ماخوذ ہے۔