کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ سے سب سے پہلے جا ملیں
أخبرني عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الخُراساني العَدْل ببغداد، حدّثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَديّ، حدَّثني إسماعيل بن أبي أُويس المدنيّ، حدَّثني أبي، عن يحيى بن سعيد، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ لأزواجه: "أسرعُكنَّ لُحوقًا بي أطولُكن يدًا"، قالت عائشة: فكُنَّا إذا اجتمعنا في بيت إحدانا بعدَ وفاةِ رسولِ الله ﷺ نمدُّ أيديَنا في الجِدار نتطاول، فلم نزل نفعلُ ذلك حتى تُوفِّيَت زينبُ بنت جحش زوجُ النبيِّ ﷺ، وكانت امرأةً قصيرةً ولم تكن أطولَنا، فعرفنا حينئذٍ أنَّ النبيّ ﷺ إنما أراد بطول اليد الصدقةَ، قالت (1): وكانت زينبُ امرأةً صَناعةَ اليدِ فكانت تدبُغُ وتخرُز وتصدَّقُ في سبيل الله ﷿ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6776 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6776 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے فرمایا: ”تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہو گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب ہم کسی کے گھر جمع ہوتیں تو دیوار پر اپنے ہاتھ رکھ کر ایک دوسرے سے تقابلی لمبائی ناپتیں، ہم ایسا ہی کرتی رہیں یہاں تک کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی وفات ہو گئی، وہ پستہ قد خاتون تھیں اور ہم میں سب سے طویل القامت نہ تھیں، تب ہمیں سمجھ آئی کہ نبی کریم ﷺ کی مراد ہاتھ کی لمبائی سے صدقہ و خیرات تھی، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: ”سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کا ہنر جانتی تھیں، وہ چمڑا رنگتیں اور سیتی تھیں اور اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتی تھیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدّثنا علي بن عاصم، عن داود بن أبي هند، عن عامر (1) قال: كانت زينبُ بنت جَحْش تقول للنبيِّ ﷺ: أنا أعظمُ نسائِك عليك حقًّا، أنا خيرُهنَّ منْكَحًا، وأكرمُهنَّ سفيرًا (2)، وأقربهنَّ رَحِمًا، ثم تقول: زوَّجَنيكَ الرحمنُ ﷿ من فوقِ عرشِه، وكان جبريلُ ﵇ هو السفيرَ بذلك، وأنا ابنةُ عمَّتِك، وليس لك من نسائك قريبةٌ غيري (3). قد ذكرتُ في أول الترجمة أنَّ أمّ زينب بنت جحش أميمة بنت عبد المطلب بن هاشم، وهي عمة النبيّ ﷺ. ذكرُ جُويرية بنت الحارث أمِّ المؤمنين ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6777 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6777 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عامر سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کرتی تھیں: ”میرا آپ پر تمام ازواج سے بڑا حق ہے، میرا نکاح سب سے بہتر ہوا، میرا قاصد سب سے معزز تھا اور میں رشتہ داری میں آپ کے سب سے قریب ہوں“، پھر وہ کہتی تھیں: ”میرا نکاح رحمن عزوجل نے اپنے عرش کے اوپر سے آپ سے کیا اور جبرائیل علیہ السلام اس کے قاصد تھے، اور میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں، آپ کی ازواج میں سے میرے سوا کوئی آپ کی اتنی قریبی رشتہ دار نہیں۔“ (جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب نبی کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں)۔