کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنا اور ان سے نکاح کرنا
فحدثنا عبد الله بن يزيد بن قُسيط (3)، عن أبيه، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن عائشةَ قالت: أصابَ رسولُ الله ﷺ نساءَ بني المُصطلق، فأخرج الخُمْسَ منه ثم قَسَمَه بين الناس، وأعطَى الفارسَ سهمينِ والراجلَ سهمًا، فوقعت جُويريةُ بنت الحارث بن أبي ضِرار في سهم ثابت بن قيس بن شمَّاس الأنصاريّ، وكانت تحتَ ابن عمٍّ لها يقال له: صفوانُ بن مالك بن جَذيمة، فقُتِلَ عنها، فكاتبها ثابتُ بن قيس على نفسِها على تسع أَواقٍ، وكانت امرأةً حُلوةً لا يكادُ يراها أحدٌ إِلَّا أخذت بنفسِه، فبَيْنا النبيُّ ﷺ عندي إذ دخلت جُويريةُ تسأله في كتابتها، فوالله ما هو إلَّا أن رأيتُها حتى كرهتُ دخولَها على النبيِّ ﷺ، وعَرَفتُ أن سَيرى فيها مثلَ الذي رأيتُ، فقالت: يا رسولَ الله، أنا جُويرية بنت الحارث سيِّدِ قومِه، وقد أصابني من الأمر ما قد علمتَ، فوقعتُ في سهم ثابت بن قيس، فكاتبنَي على تسع أَواقٍ فأعنِّي في فِكاكي، فقال: "أوَخيرٌ من ذلك؟ " قالت: ما هو؟ قال: "أُؤدِّي عنكِ كتابتَك وأتزوَّجُكِ"، قالت: نعم يا رسول الله، قال: "فقد فعلتُ"، فخرج الخبرُ إلى الناس، فقالوا: أصهارُ رسول الله ﷺ يُستَرقُّون؟! فأعتقُوا ما كان في أيديهم من سَبْي بني المُصطلِق، فبلغ عِتقُهم مئةَ أهل بيتٍ بتزويجه إياها، فلا أعلمُ امرأةً كانت أعظمَ بركةً على قومِها منها، وذلك مُنصَرَفَه عن غزوة المُريسيع (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بنو مصطلق کی خواتین کو بطور جنگی قیدی حاصل کیا، تو آپ ﷺ نے ان میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا اور بقیہ کو لوگوں میں تقسیم فرما دیا، آپ ﷺ نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ دیا، تو سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار انصاری صحابی ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، وہ اس سے قبل اپنے چچازاد صفوان بن مالک بن جذیمہ کے نکاح میں تھیں جو قتل ہو چکا تھا، چنانچہ ثابت بن قیس نے ان کے ساتھ نو اوقیہ چاندی کے عوض ان کی آزادی کی مکاتبت کر لی، وہ ایک ایسی پرکشش اور خوبصورت خاتون تھیں کہ جو بھی انہیں دیکھتا ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف فرما تھے اسی دوران جویریہ اپنی مکاتبت کے سلسلے میں مدد لینے کے لیے حاضر ہوئیں، اللہ کی قسم! جیسے ہی میں نے انہیں دیکھا مجھے ان کا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آنا ناگوار گزرا کیونکہ میں جانتی تھی کہ آپ ﷺ بھی ان میں وہی (حسن) ملاحظہ فرمائیں گے جو میں نے دیکھا ہے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے سردار حارث کی بیٹی جویریہ ہوں، اور مجھ پر جو آزمائش آئی ہے وہ آپ کے علم میں ہے، میں ثابت بن قیس کے حصے میں آئی ہوں اور انہوں نے مجھ سے نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے، پس آپ میری آزادی کے لیے میری مدد فرمائیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس سے بہتر بات پسند کرو گی؟“ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہاری جانب سے مکاتبت کی رقم ادا کر دیتا ہوں اور تم سے نکاح کر لیتا ہوں“، انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں یا رسول اللہ!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا“، جب یہ خبر لوگوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا: ”کیا رسول اللہ ﷺ کے سسرالی رشتہ داروں کو غلام بنا کر رکھا جائے گا؟“ چنانچہ لوگوں کے پاس بنو مصطلق کے جو قیدی تھے انہوں نے ان سب کو آزاد کر دیا، آپ ﷺ کے ان سے نکاح کی برکت سے بنو مصطلق کے سو گھرانے آزاد ہوئے، میں کسی ایسی عورت کو نہیں جانتی جو اپنی قوم کے لیے ان سے بڑھ کر باعثِ برکت ثابت ہوئی ہو، اور یہ واقعہ غزوہ مریسع سے واپسی کے موقع کا ہے۔
قال ابن عمر: فحدثني عبدُ الله بن أبي الأبيض مولى جُويرية، عن أبيه قال: سَبَى رسولُ الله ﷺ بني المُصطلِق، فوقعت جُوَيريةُ في السَّبي، فجاء أبوها فافتداها وأنكحَها رسولَ الله ﷺ بعدُ (2). وأما حديث محمد بن إسحاق إلى آخره قريبٌ من لفظِ الواقدي، والمعاني كلُّها واحدة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالابیض اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق کو قیدی بنایا تو سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا ان قیدیوں میں شامل تھیں، پھر ان کے والد آئے اور فدیہ دے کر انہیں چھڑایا اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا۔ جہاں تک محمد بن اسحاق کی روایت کا تعلق ہے تو وہ آخر تک واقدی کے الفاظ کے قریب ہے اور ان سب کے معنی ایک ہی ہیں۔
قال ابن عمر: وحدثني عبد الله بن أبي الأبيض، عن أبيه قال: تُوفِّيَت جُويرية بنت الحارث زوجُ النبيِّ ﷺ في شهر ربيع الأول سنةَ ستٍّ وخمسين في إمارة معاوية، وصلَّى عليها مروانُ بن الحكم، وهو يومئذ والي المدينة (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالابیض اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی زوجہ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی وفات ماہ ربیع الاول سنہ 56 ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں ہوئی اور مروان بن حکم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی جو ان دنوں مدینہ کا گورنر تھا۔
قال ابن عمر وأخبرني محمد بن يزيد، عن جدَّته، وكانت مولاةَ جُويرية بنت الحارث، عن جُويرية قالت: تزوّجني رسول الله ﷺ وأنا ابنةُ عشرين سنة. قال: وتُوفِّيَت جويرية سنةَ خمسين، وهي يومئذ ابنةُ خمسٍ وستين سنةً، وصلَّى عليها مروان بن الحكم (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب میرا رسول اللہ ﷺ سے نکاح ہوا تو میں بیس سال کی تھی۔“ راوی کہتے ہیں: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ 50 ہجری میں ہوئی اور اس دن ان کی عمر پینسٹھ سال تھی، اور مروان بن حکم نے ان کا جنازہ پڑھایا۔