حدیث نمبر: 6941
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سليمان المَوصلي، حدّثنا علي بن حرب الموصليّ، حدّثنا سفيان بن عُيَينة، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد قال: قالت جُوَيريَةُ بنتُ الحارث لرسول الله ﷺ: إِنَّ أزواجك يَفخَرْنَ عليَّ يَقُلنَ: لم يتزوَّجْكِ رسولُ الله ﷺ، إنما أنت مِلكُ يمينٍ، فقال رسول الله ﷺ: "ألم أُعْظِمْ صَدَاقَكِ؟ ألم أُعتِقْ أربعين رَقَبةً (1) من قومِك؟ " (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6778 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مجاہد سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: ”آپ کی دیگر ازواج مجھ پر فخر کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ سے (آزاد خاتون کے طور پر) نکاح نہیں کیا بلکہ آپ تو صرف ان کی ملکیت (لونڈی) ہیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہارا مہر زیادہ نہیں کیا؟ کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو (تمہاری خاطر) آزاد نہیں کیا؟“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6941
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات إلَّا أنَّ مجاهدًا لم يذكر أنه تحمله من جويرية
تخریج حدیث «رجاله ثقات إلَّا أنَّ مجاهدًا لم يذكر أنه تحمله من جويرية، مع احتمال سنّه للسماع منها، لكن صورته هنا صورة المرسل. ابن أبي نجيح: هو عبد الله بن يسار المكي.» [ترقيم الرساله 6941] [ترقيم الشركة 6861] [ترقيم العلميه 6778]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) لفظة "رقبة" ليست في (م) و (ص).
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں لفظ "رقبہ" موجود نہیں ہے۔
(2) رجاله ثقات إلَّا أنَّ مجاهدًا لم يذكر أنه تحمله من جويرية، مع احتمال سنّه للسماع منها، لكن صورته هنا صورة المرسل. ابن أبي نجيح: هو عبد الله بن يسار المكي.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، مگر مجاہد نے جویریہ سے حدیث سننے کا ذکر نہیں کیا، اگرچہ ان کی عمر سماع کے احتمال کی گنجائش رکھتی ہے، لیکن یہاں روایت کی صورت "مرسل" والی ہے۔
اہم نکتہ: ابن ابی نجیح سے مراد عبداللہ بن یسار المکی ہیں۔
وأخرجه عبد الرزاق (13119) - ومن طريقه الطبراني في "الكبير" (24/ 155) - وسعيد بن منصور في "سننه" (909)، وابن سعد في "الطبقات" 10/ 114، وإسحاق بن راهويه في "مسنده" (2078) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق (13119)—اور ان کے طریق سے طبرانی نے "الکبیر" (24/ 155)—سعید بن منصور نے "سنن" (909)، ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 114) اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی "مسند" (2078) میں سفیان بن عیینہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخالفهم يعقوبُ بن حميد عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (3104)، فرواه عن سفيان بن عيينة، عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عبّاس: أنَّ جويرية … فوصله بذكر ابن عبّاس. ويعقوب بن حميد ليس بذاك القوي.
فنی نکتہ / علّت: یعقوب بن حمید نے ان سب کی مخالفت کی ہے (ابن ابی عاصم: 3104 میں)۔ انہوں نے اسے سفیان عن ابن ابی نجیح عن مجاہد کے بعد "عن ابن عباس" کا اضافہ کر کے روایت کیا کہ جویریہ... پس انہوں نے ابن عباس کا ذکر کر کے اسے "موصول" بنا دیا۔ (حالانکہ) یعقوب بن حمید اتنے قوی راوی نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6941 سے ماخوذ ہے۔