حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: أبو هاشم بن عُتبة بن رَبيعة بن عبد شمس بن عبد مَنَاف، أمُّه خُناس بنت مالك بن المُضرِّب بن حُجَير بن عبد بن مَعِيص بن عامر بن لؤي، وكان أعورَ، فُقِئت عينُه يومَ اليرموك، تُوفي أبو هاشم في زمن معاوية.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبدمناف (ان کا نسب ہے)، ان کی والدہ خناس بنت مالک بن مضرب بن حجیر بن عبد بن معصی بن عامر بن لوی تھیں، ان کی ایک آنکھ جنگِ یرموک میں ضائع ہو گئی تھی، اور ابو ہاشم کی وفات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبّاس بن الوليد بن مَزْيَد (1)، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، حدثني خالد بن دِهْقان، عن خالدٍ سَبَلان (2)، عن كُهيل بن حَرمَلة قال: قَدِم أبو هريرةَ دمشقَ، فنزل على أبي كُلْثوم السَّدوسي، فأتيناه، فتذاكرنا الصلاةَ الوسطى فاختلفنا فيها، فقال أبو هريرة: اختلَفْنا فيها كما اختلفتُم فيها ونحن بفِنَاء بيتِ رسولِ الله ﷺ، وفينا الرجلُ الصالح أبو هاشم بنُ عُتبة بن ربيعة، فقامَ فدخلَ على رسولِ الله ﷺ، وكان جَريئًا عليه، ثم خرجَ إلينا فأخبرنا أنها العصرُ (3)
حافظ طلحہ بابر
کہیل بن حرملہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دمشق آئے اور ابوکلثوم سدوسی کے ہاں قیام فرمایا، ہم ان کے پاس حاضر ہوئے اور ہمارے درمیان صلاۃِ وسطیٰ (درمیانی نماز) کے بارے میں تذکرہ ہوا تو اس میں ہمارا اختلاف ہو گیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری طرح ہمارا بھی اسی وقت اختلاف ہوا تھا جب ہم رسول اللہ ﷺ کے گھر کے سامنے صحن میں موجود تھے، ہم میں ایک صالح شخص ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بھی موجود تھے، وہ اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ وہ آپ ﷺ کے سامنے (سوال کرنے میں) دلیر تھے، پھر وہ باہر تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ اس سے مراد نمازِ عصر ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا عبد الله بن محمد ابن سعيد المصري بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن أبي وائل قال: دخل معاويةُ على أبي هاشم بن عُتْبة وهو يبكي، فقال: يا خالُ ما يُبكِيك؟ أوجعٌ أم حُزنٌ على الدنيا؟ فقال: كلٌّ لا، ولكن عَهِدَ إليَّ رسولُ الله ﷺ عهدًا لم آخُذْ به، قال لي: "يا أبا هاشم، إنها ستُدرِكُكَ أموالٌ يُؤتاها أقوام (1) " (2). ذكرُ أبي العاص بن الرَّبيع ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6692 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6692 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابووائل سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ (اپنے ماموں) ابو ہاشم بن عتبہ کے پاس گئے جبکہ وہ رو رہے تھے، انہوں نے پوچھا: اے ماموں! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا کسی درد کی وجہ سے یا دنیا (چھوٹنے) کے غم میں؟ انہوں نے جواب دیا: ان میں سے کوئی بات نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا جس پر میں قائم نہ رہ سکا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”اے ابوہاشم! عنقریب تمہیں وہ مال و دولت میسر آئے گا جو لوگوں کو دیا جاتا ہے۔“