کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا یزید بن عبد اللہ ابو السائب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله قال: ويزيدُ بن عبد الله بن سعد بن الأسود بن ثُمامة بن يَقْظان (2) ابن الحارث بن عمرو بن معاوية بن الحارث، حليفٌ لبني مُعيقِيب، وقد كان النبيُّ ﷺ أمَّره على اليمامة.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ یزید بن عبداللہ بن سعد بن اسود بن ثمامہ بن یقظان بن حارث بن عمرو بن معاویہ بن حارث، بنو معیقیب کے حلیف تھے اور نبی کریم ﷺ نے انہیں یمامہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عبد الله بن السائب بن يزيد، عن أبيه، عن جدِّه، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "لا يأخُذْ أحدُكم متاعَ صاحبه لاعبًا ولا جادًّا، وإذا وَجَدَ أحدُكم عصا صاحبِه فليردَّها إليه" (3). وابنُه السائب بن يزيد أدرك النبيَّ ﷺ وروى عنه حديثًا (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6686 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6686 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا (یزید بن سعید) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان مذاق میں یا سنجیدگی سے (بغیر اجازت کے) نہ لے، اور اگر کسی کو اپنے ساتھی کی لاٹھی بھی ملے تو وہ اسے واپس کر دے۔“ اور ان کے بیٹے سائب بن یزید نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ ﷺ سے حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثني أبي، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن محمد بن يوسف، عن السائب ابن يزيد قال: حُجَّ بي مع النبيِّ ﷺ حجَّةَ الوداع وأنا ابنُ سبعِ سنينَ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع پر لے جایا گیا جبکہ میری عمر سات سال تھی۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير قال: وفيها ماتَ السائبُ بن يزيد؛ يعني سنةَ إحدى وتسعين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبداللہ بن نمیر سے روایت ہے کہ سنہ 91 ہجری میں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
حدثني علي بن حَمْشاذَ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني محمد بن بكَّار، حدثنا أبو مَعْشَر، عن يوسف بن يعقوب، عن السائب بن يزيد قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ أخرجَ عبدَ الله بن خَطَل من بين أستارِ الكعبة، فقتله صَبْرًا، ثم قال: "لا يُقتَلُ أحدٌ من قريش بعدَ هذا صبرًا" (2). ذكرُ أبي هاشم بن عُتبة ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے عبداللہ بن خطل کو کعبہ کے پردوں کے پیچھے سے نکلوایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس (فتح مکہ کے دن) کے بعد کسی قریشی کو قید کر کے قتل نہیں کیا جائے گا۔“