حدیث نمبر: 6831
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عبد الله بن السائب بن يزيد، عن أبيه، عن جدِّه، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "لا يأخُذْ أحدُكم متاعَ صاحبه لاعبًا ولا جادًّا، وإذا وَجَدَ أحدُكم عصا صاحبِه فليردَّها إليه" (3). وابنُه السائب بن يزيد أدرك النبيَّ ﷺ وروى عنه حديثًا (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6686 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا (یزید بن سعید) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان مذاق میں یا سنجیدگی سے (بغیر اجازت کے) نہ لے، اور اگر کسی کو اپنے ساتھی کی لاٹھی بھی ملے تو وہ اسے واپس کر دے۔“ اور ان کے بیٹے سائب بن یزید نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ ﷺ سے حدیث روایت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6831
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.» [ترقيم الرساله 6831] [ترقيم الشركة 6751] [ترقيم العلميه 6686]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
اہم نکتہ: ابن ابی ذئب سے مراد محمد بن عبد الرحمن بن المغیرہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17940 - 17942)، وأبو داود (5003)، والترمذي (2160) من طرق عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن غريب لا نعرفه إلَّا من حديث ابن أبي ذئب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داود (5003) اور ترمذی (2160) نے ابن ابی ذئب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یہ صرف ابن ابی ذئب کی حدیث سے جانی جاتی ہے۔
(4) قوله: حديثًا، أثبتناه من (ب)، ولم يرد في (م) و (ص).
نوٹ / توضیح: لفظ "حدیثاً" ہم نے نسخہ (ب) سے ثابت کیا ہے، یہ نسخہ (م) اور (ص) میں موجود نہیں تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6831 سے ماخوذ ہے۔