کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عمرو بن عبسة سلمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّسْتَري، حدثنا خَليفة بن خيَّاط قال: عمرُو بن عَبَسة بن عامر بن خالد بن غاضِرة (1) بن عتَّاب ابن امرِئ القيس، أمُّه رَمْلةُ بنت وَقِيعة (2) من بني حَرَام، وهو أخو أبي ذرٍّ الغِفاري لأمِّه، من ساكني الشام، يُكنى أبا نَجيح (3).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ: عمرو بن عبسہ بن عامر بن خالد بن غاضرہ بن عتاب بن امرء القیس، ان کی والدہ رملہ بنت وقیعہ بنو حرام سے تھیں، یہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں جائے) بھائی تھے، شام کے رہنے والے تھے اور ان کی کنیت ابونجیح تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6727
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6727] [ترقيم الشركة 6647]
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبّاس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الله بن العلاء بن زَبْر، أنه سمع أبا سلَّام الأسود يقول: سمعتُ عمرو بن عَبَسة يقول: صلَّى بنا رسولُ الله ﷺ إلى بعيرٍ من المَغنَم، فلما سلَّم أخذَ وَبَرةً من جنب البعير، فقال: "إنَّه لا يَحِلُّ لي من هذا المَغنم مثلُ هذه إلَّا الخُمسَ، والخمسُ مردودٌ عليكم" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف رخ کر کے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال پکڑا اور فرمایا: ”میرے لیے اس غنیمت میں سے اس بال کے برابر بھی کوئی چیز حلال نہیں سوائے پانچویں حصے (خمس) کے، اور وہ خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6728
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على أبي سلام الأسود -واسمه ممطور الحبشي- كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (4418). وقال ابن أبي حاتم في "العلل" (908): سألت أبي عن حديث رواه الوليد بن مسلم عن عبد الله العلاء بن زبر أنه سمع أبا سلام الأسود ...» [ترقيم الرساله 6728] [ترقيم الشركة 6648]
أخبرني أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أبو تَوبة الربيعُ بن نافع الحلَبي، حدثنا محمد بن مُهاجر، حدثنا العبّاس بن سالم، عن أبي سلَّام، عن أبي أُمامة الباهلي، عن عمرو بن عَبَسَة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ أولَ ما بُعث وهو يومئذ مُستخفٍ، فقلتُ: ما أنت؟ قال: "أنا نبيٌّ"، قلتُ: وما نبيٌّ؟ قال: "رسولُ الله"، قلتُ: اللهُ أرسلَك؟ قال: "نعم"، قلتُ: بما أرسلَك؟ قال: "بأن تَعبُدوا اللهَ، وتَكسِروا الأوثانَ، وتَصِلُوا الأرحامَ"، قلتُ: نِعمَّا أرسلَك، فمن تَبِعَك على هذا؟ قال: "حرٌ وعبدٌ"؛ يعني أبا بكر وبلالًا -فكان عمرو بن عَبَسة يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبعُ الإسلام- فأسلمتُ، ثم قلتُ: أتبعُك يا رسولَ الله؟ قال: "لا، ولكن الحَقْ بأرضِ قومِك، فإذا ظهرتُ فأتِني" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جابر بن سَمُرة السُّوَائي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6584 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آیا جب آپ کی بعثت کا آغاز تھا اور آپ ان دنوں مکہ میں چھپے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: آپ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نبی ہوں“، میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا رسول“، میں نے پوچھا: کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس لیے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، بتوں کو توڑ دو اور صلہ رحمی کرو“، میں نے عرض کی: کتنا ہی خوبصورت پیغام ہے جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں، اس دعوت پر آپ کی اتباع کس نے کی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آزاد اور ایک غلام نے“ —یعنی سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما نے— چنانچہ عمرو بن عبسہ کہا کرتے تھے کہ اس وقت میں نے خود کو اسلام کا چوتھائی حصہ پایا، پھر میں نے اسلام قبول کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ رہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ابھی تم اپنی قوم کی زمین پر واپس چلے جاؤ، پھر جب میں غالب آ جاؤں تو میرے پاس آ جانا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6729
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وسلف مطولًا برقم (593).» [ترقيم الرساله 6729] [ترقيم الشركة 6649] [ترقيم العلميه 6584]