المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمرو بن عبسة سلمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6727
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّسْتَري، حدثنا خَليفة بن خيَّاط قال: عمرُو بن عَبَسة بن عامر بن خالد بن غاضِرة (1) بن عتَّاب ابن امرِئ القيس، أمُّه رَمْلةُ بنت وَقِيعة (2) من بني حَرَام، وهو أخو أبي ذرٍّ الغِفاري لأمِّه، من ساكني الشام، يُكنى أبا نَجيح (3).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ: عمرو بن عبسہ بن عامر بن خالد بن غاضرہ بن عتاب بن امرء القیس، ان کی والدہ رملہ بنت وقیعہ بنو حرام سے تھیں، یہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں جائے) بھائی تھے، شام کے رہنے والے تھے اور ان کی کنیت ابونجیح تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: ناصرة، وأثبتناه على الصواب من "طبقات خليفة" ص 49 وغيره.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "ناصرہ" ہو گیا تھا، جسے خلیفہ بن خیاط کی "الطبقات" ص 49 کی مدد سے درست کر کے "بنو نضرہ" یا متعلقہ صحیح نام میں بدلا گیا ہے۔
(2) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: رقيقة، وفي (ب) إلى: رقيعة، والمثبت من "طبقات خليفة".
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ "رقیقہ" اور (ب) میں "رقیعہ" ہو گیا تھا، جبکہ "طبقاتِ خلیفہ" کے مطابق اصل لفظ ثابت کیا گیا ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يحيى، والمثبت من "الطبقات".
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام "یحییٰ" میں تحریف ہو گیا تھا، جسے "الطبقات" کی مدد سے درست کیا گیا۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "ناصرہ" ہو گیا تھا، جسے خلیفہ بن خیاط کی "الطبقات" ص 49 کی مدد سے درست کر کے "بنو نضرہ" یا متعلقہ صحیح نام میں بدلا گیا ہے۔
(2) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: رقيقة، وفي (ب) إلى: رقيعة، والمثبت من "طبقات خليفة".
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ "رقیقہ" اور (ب) میں "رقیعہ" ہو گیا تھا، جبکہ "طبقاتِ خلیفہ" کے مطابق اصل لفظ ثابت کیا گیا ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يحيى، والمثبت من "الطبقات".
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام "یحییٰ" میں تحریف ہو گیا تھا، جسے "الطبقات" کی مدد سے درست کیا گیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6727 سے ماخوذ ہے۔