کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا جابر بن سمرة سوائی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة ابن خيَّاط قال: جابرُ بن سَمُرة السُّوائي، يُكنى أبا خالد، ويقال: أبو عبد الله مات في ولاية بِشر بن مروان.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ: جابر بن سمرہ سوائی، ان کی کنیت ابوخالد تھی اور ایک قول کے مطابق ابوعبداللہ تھی، ان کی وفات بشر بن مروان کی گورنری کے دور میں ہوئی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6730
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6730] [ترقيم الشركة 6650]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن بن يحيى، (ح) وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يوسف بن يعقوب؛ قالا: حدثنا أبو الربيع الزَّهراني، حدثنا جَرير، عن المغيرة، عن الشَّعبي، عن جابر بن سَمُرة قال: كنتُ عندَ رسول الله ﷺ فسمعتُه يقول: "لا يزالُ أمرُ هذه الأمة ظاهرًا حتى يقومَ اثنا عشرَ خليفةً" وقال كلمةً خفيَتْ عليَّ، وكان أَبي أدنى إليه مجلسًا منِّي، فقلتُ: ما قال؟ فقال: "كلُّهم من قريش" (1). وقد روى جابر بن سَمُرة عن أبيه حديثًا آخر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اس امت کا نظام اور غلبہ ہمیشہ قائم رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلیفہ گزر جائیں“، پھر آپ ﷺ نے کوئی بات کہی جو (شور کی وجہ سے) مجھ پر مخفی رہی، جبکہ میرے والد مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کی مجلس کے قریب بیٹھے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ کا فرمان تھا: ”وہ تمام کے تمام قریش سے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،يوسف بن يعقوب: هو ابن إسماعيل بن حماد بن زيد، وأبو الربيع الزهراني: هو سليمان بن داود العتكي، وجرير: هو ابن عبد الحميد، والمغيرة: هو ابن مِقسم الضبي.» [ترقيم الرساله 6731] [ترقيم الشركة 6651]
أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا سليمان بن داود الشَّاذَكوني، حدثنا إسماعيل بن عبيد الله، حدثنا عثمان بن عبد الله (2) بن مَوْهَب، عن جابر بن سَمُرة، عن أبيه سَمُرة بن عمرو (3) السُّوَائي قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: إنَّا أهلُ باديةٍ وماشية، فهل نتوضَّأُ من لحوم الإبلِ وألبانِها؟ قال: "نعم" فقلت: نتوضَّأ من لحومِ الغَنم وألبانِها؟ قال: "لا" (1) ذكرُ أبي جُحَيفة السُّوَائي ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا سمرہ بن عمرو سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم بستیوں سے دور رہنے والے اور مویشی پالنے والے لوگ ہیں، تو کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے کے بعد (دوبارہ) وضو کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (وضو کیا کرو)“، میں نے عرض کی: کیا ہم بکری کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے کے بعد بھی وضو کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6732
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، سليمان بن داود الشاذكوني متهم بالكذب، وشيخه إسماعيل بن عبيد الله لم نتبينه. عثمان بن موهب: هو عثمان بن عبد الله بن موهب المدني.» [ترقيم الرساله 6732] [ترقيم الشركة 6652]