المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمرو بن عبسة سلمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرني أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أبو تَوبة الربيعُ بن نافع الحلَبي، حدثنا محمد بن مُهاجر، حدثنا العبّاس بن سالم، عن أبي سلَّام، عن أبي أُمامة الباهلي، عن عمرو بن عَبَسَة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ أولَ ما بُعث وهو يومئذ مُستخفٍ، فقلتُ: ما أنت؟ قال: "أنا نبيٌّ"، قلتُ: وما نبيٌّ؟ قال: "رسولُ الله"، قلتُ: اللهُ أرسلَك؟ قال: "نعم"، قلتُ: بما أرسلَك؟ قال: "بأن تَعبُدوا اللهَ، وتَكسِروا الأوثانَ، وتَصِلُوا الأرحامَ"، قلتُ: نِعمَّا أرسلَك، فمن تَبِعَك على هذا؟ قال: "حرٌ وعبدٌ"؛ يعني أبا بكر وبلالًا -فكان عمرو بن عَبَسة يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبعُ الإسلام- فأسلمتُ، ثم قلتُ: أتبعُك يا رسولَ الله؟ قال: "لا، ولكن الحَقْ بأرضِ قومِك، فإذا ظهرتُ فأتِني" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جابر بن سَمُرة السُّوَائي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6584 - صحيحسیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آیا جب آپ کی بعثت کا آغاز تھا اور آپ ان دنوں مکہ میں چھپے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: آپ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نبی ہوں“، میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا رسول“، میں نے پوچھا: کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس لیے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، بتوں کو توڑ دو اور صلہ رحمی کرو“، میں نے عرض کی: کتنا ہی خوبصورت پیغام ہے جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں، اس دعوت پر آپ کی اتباع کس نے کی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آزاد اور ایک غلام نے“ —یعنی سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما نے— چنانچہ عمرو بن عبسہ کہا کرتے تھے کہ اس وقت میں نے خود کو اسلام کا چوتھائی حصہ پایا، پھر میں نے اسلام قبول کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ رہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ابھی تم اپنی قوم کی زمین پر واپس چلے جاؤ، پھر جب میں غالب آ جاؤں تو میرے پاس آ جانا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت تفصیلاً پہلے حدیث نمبر (593) کے تحت گزر چکی ہے۔