کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُعلَّى بن مَهدي المَوصلي، حدثنا أبو عَوانة، عن عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه قال: حدثني أسامة بن زيد قال: قال رسولُ الله ﷺ: "أحبُّ أهلي إليَّ مَن أنعمَ الله عليه وأنعمتُ عليه، أسامةُ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6529 - عمر بن أبي مسلمة ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6529 - عمر بن أبي مسلمة ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے اہل میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی انعام کیا، یعنی اسامہ۔“
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عفَّان وحجَّاج، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "أسامة أحبُّ الناس إليَّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6530 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6530 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا مسلم ابن إبراهيم، حدثنا قُرَّة بن خالد، حدثني محمد بن سِيرِين، قال: بَلَغَت النَّخلةُ على عهد عثمان بن عفّان ألفَ درهمٍ، فعَمَدَ أسامةُ بن زيد إلى نخلةٍ، فنَقَرها وأخرج جُمَّارها فأطعمها أمَّه، فقال له: ما حَمَلك على هذا وأنت ترى النَّخلةَ قد بلغت ألفًا؟! فقال: إِنَّ أمِّي سألَتْنِيه، ولا تسألُني شيئًا أقدِرُ عليه إلَّا أعطيتُها (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6531 - الحديث فيه إرسال
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6531 - الحديث فيه إرسال
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک کھجور کے درخت کی قیمت ایک ہزار درہم تک پہنچ گئی تھی، اس دوران سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ایک درخت کا قصد کیا، اسے چیرا اور اس کا گودا (جمار) نکال کر اپنی والدہ کو کھلایا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا جبکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک درخت کی قیمت ایک ہزار درہم تک پہنچ چکی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”میری والدہ نے مجھ سے اس کا تقاضا کیا تھا، اور وہ مجھ سے ایسی کسی بھی چیز کا سوال نہیں کرتیں جس پر میں قدرت رکھتا ہوں مگر میں وہ انہیں عطا کر دیتا ہوں۔“
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو جعفر الحَضْرمي، حدثنا سعيد بن عمرو الأشعَثي، حدثنا أبو بكر بن شعيب بن الحَبْحاب، قال: سمعتُ أشياخَنا يقولون: كان في نَقْشِ خاتم أسامةَ بن زيد: حِبُّ رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
ابو بکر بن شعیب بن حبحاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے اساتذہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی انگوٹھی کے نگینے پر یہ نقش تھا: «حِبُّ رسول الله ﷺ» ۔
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري قال: كان أسامة بن زيد يُخاطَب بالأمير حتى مات، يقولون: بعثَه رسولُ الله ﷺ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6533 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6533 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
امام زہری سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو وفات تک ”امیر“ کہہ کر مخاطب کیا جاتا رہا، لوگ کہتے تھے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے (لشکر کا امیر بنا کر) روانہ فرمایا تھا۔
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا الحُسين بن يزيد الطَّحّان، حدثنا عائذ بن حَبيب، عن الحجَّاج بن أَرْطاة، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عبّاس، عن أسامة بن زيد قال: كنتُ رِدْفَ النبيِّ ﷺ بعرفةَ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں عرفات کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے پیچھے سواری پر ردیف (پیچھے بیٹھنے والا) بن کر سوار تھا۔