المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
قَوْلُ النَّبِيِّ : " أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ " باب: نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں
حدیث نمبر: 6679
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا الحُسين بن يزيد الطَّحّان، حدثنا عائذ بن حَبيب، عن الحجَّاج بن أَرْطاة، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عبّاس، عن أسامة بن زيد قال: كنتُ رِدْفَ النبيِّ ﷺ بعرفةَ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں عرفات کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے پیچھے سواری پر ردیف (پیچھے بیٹھنے والا) بن کر سوار تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد ليِّن، حسين الطحان وحجاج بن أرطاة فيهما لِينٌ، لكن قد توبعا عند المصنف فيما سلف برقم (1727).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند "لیِّن" (نرم/کمزور) ہے کیونکہ حسین الطحان اور حجاج بن ارطاة کے حافظے میں کچھ کمزوری ہے، تاہم مصنف کے ہاں پہلے نمبر (1727) پر ان کی متابعت گزر چکی ہے جو اس کی تلافی کرتی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند "لیِّن" (نرم/کمزور) ہے کیونکہ حسین الطحان اور حجاج بن ارطاة کے حافظے میں کچھ کمزوری ہے، تاہم مصنف کے ہاں پہلے نمبر (1727) پر ان کی متابعت گزر چکی ہے جو اس کی تلافی کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6679 سے ماخوذ ہے۔