المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
قَوْلُ النَّبِيِّ : " أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ " باب: نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں
حدیث نمبر: 6674
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُعلَّى بن مَهدي المَوصلي، حدثنا أبو عَوانة، عن عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه قال: حدثني أسامة بن زيد قال: قال رسولُ الله ﷺ: "أحبُّ أهلي إليَّ مَن أنعمَ الله عليه وأنعمتُ عليه، أسامةُ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6529 - عمر بن أبي مسلمة ضعيفحافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے اہل میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی انعام کیا، یعنی اسامہ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف؛ عمر بن أبي سلمة ليّن الحديث، وقد تفرَّد به، وبه ضعَّفه الذهبي في "التلخيص". وسلف برقم (3604).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمر بن ابی سلمہ "لین الحدیث" (کمزور) ہے اور وہ اس روایت میں منفرد ہے، اسی وجہ سے امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ پہلے نمبر (3604) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمر بن ابی سلمہ "لین الحدیث" (کمزور) ہے اور وہ اس روایت میں منفرد ہے، اسی وجہ سے امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ پہلے نمبر (3604) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6674 سے ماخوذ ہے۔