کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عتاب بن اسید اموی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله الزُّبيري (3) قال: عتَّابُ بن أَسِيد بن أبي العِيصِ ابن أُميَّة بن عبد شَمْس بن عبد مَنَاف، وأمُّ عتّاب بن أَسِيد وخالد بن أَسِيدٍ زينبُ بنت أبي عَمرو بن أُميّة بن عبد شَمس، استَعمَل رسولُ الله ﷺ عتّابًا (4) على مكة، ومات رسول الله ﷺ وعتّابٌ عامله على مكة. وتُوفِّي عتّابُ بن أَسيدٍ بمكة في جُمادَى الآخرة سنةَ ثلاثَ عشرةَ.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ: عتاب بن اسید بن ابی العیص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف، ان کی والدہ زینب بنت ابی عمرو بن امیہ تھیں، رسول اللہ ﷺ نے عتاب (رضی اللہ عنہ) کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا، اور جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو عتاب مکہ میں آپ ﷺ کے عامل (گورنر) تھے، ان کی وفات جمادی الآخرہ سنہ 13 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا الحسن بن علي بن نَصْر، حدثنا الزُّبير بن بكّار القاضي، حدثنا حسين بن سعيد بن هاشم بن سعيد من بني قيس بن ثَعلَبة، حدثني يحيى بن سعيد بن سالم القَدَّاحُ، عن أبيه، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ ليلةَ قُرْبِه من مكة فِي غَزْوة الفَتْح: "إنَّ بمكة لأربعة نَفَرٍ من قريشٍ أَربَأُ بهم عن الشِّرك، وأَرغَبُ بهم في الإسلام" قيل: ومَن هم يا رسول الله؟ قال: "عتّابُ بن أَسِيدٍ وجُبَيرُ بن مُطْعِمٍ وحَكيمُ بن حِزامٍ وسُهَيل بن عَمْرو" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے قریب پہنچنے والی رات کو فرمایا: ”مکہ میں قریش کے چار ایسے افراد ہیں جنہیں میں شرک سے بالاتر سمجھتا ہوں اور ان کے اسلام لانے کی رغبت رکھتا ہوں۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عتاب بن اسید، جبیر بن مطعم، حکیم بن حزام اور سہیل بن عمرو۔“
أخبرني محمد بن الحسن الكارِزِيّ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَرَميُّ بن حفص القَسْملي، حدثنا خالد بن أبي عثمان، عن أيوب بن عبد الله بن يَسَار، عن عمرو بن أبي عَقرَب قال: سمعتُ عتَّابَ بن أَسِيدٍ وهو مُسنِدٌ ظهرَه إلى بيتِ الله يقول: والله ما أَصبْتُ في عملي هذا الذي وَلَّاني رسولُ الله ﷺ إِلَّا ثوبَينِ مُعقَّدَينِ، فكَسَوتُهما كَيْسانَ مولايَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6524 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6524 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن ابی عقرب سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ سے ٹیک لگائے ہوئے یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی قسم! مجھے اس کام (گورنر شپ) سے، جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے مقرر فرمایا تھا، ان دو ملے ہوئے (یا گرہ لگے ہوئے) کپڑوں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا، اور وہ بھی میں نے اپنے غلام کیسان کو پہنا دیے۔“
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الحَكَم، حدثنا خالد بن نِزَار الأَيْلي، حدثنا محمد بن صالح التَّمَّار، عن ابن شِهاب، عن سعيد بن المسيّب، عن عتَّابُ بن أَسِيد: أنَّ رسول الله ﷺ قَالَ في زكاة الكُرُوم: "إنها تُخرَصُ كما يُخرَصُ النخلُ، ثم تُؤدَّى زكاتُه زَبيبًا كما تُؤدَّى زكاةُ النخلِ تمرًا" (1). ذكرُ شدّاد بن الهادِ ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انگور کے باغات کی زکوۃ کے بارے میں فرمایا: ”ان کا تخمینہ (خرص) اسی طرح لگایا جائے گا جیسے کھجوروں کا لگایا جاتا ہے، پھر ان کی زکوۃ کشمش کی صورت میں ادا کی جائے گی جیسے کھجور کی زکوۃ خشک کھجور (تمر) کی صورت میں دی جاتی ہے۔“