کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط (2) قال: ومن حُلَفاءِ بني هاشمٍ من غير أهل بدرٍ: شَدَّادُ بن الهادِ - واسمُ الهادِ أسامةُ -بنِ عَمرو بن عبد الله بن جابر بن بشر بن عتوارة بن عامر بن مالك بن الليث ابن بَكْر بن عبدِ مَنَاةَ بن علي بن كنانة، وهو أبو [عبد الله بنِ] شدّاد بن الهاد، وشدّادٌ سِلْفُ رسول الله ﷺ، كانت عنده سَلْمى بنت عُميس (1)، خَلَفَ عليها بعدَ حمزة ابن عبد المطلَّب.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ: بنو ہاشم کے حلفاء میں سے (جو بدری نہیں تھے) شداد بن ہاد تھے —اور ہاد کا نام اسامہ تھا— بن عمرو بن عبداللہ بن جابر بن بشر بن عتوارہ بن عامر بن مالک بن لیث بن بکر بن عبدمناف بن علی بن کنانہ، یہ شداد بن ہاد کے والد تھے، اور شداد رسول اللہ ﷺ کے ہم زلف (سلف) تھے، ان کے نکاح میں سلمیٰ بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (کی شہادت) کے بعد ان کے نکاح میں آئی تھیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6670
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6670] [ترقيم الشركة 6590]
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن جُرَيج قال: أخبرني عِكرمةُ بن خالد، عن [ابن] (2) أبي عمَّار، عن شدَّاد بن الهادِ: أَنَّ رجلًا من الأعراب آمَنَ برسول الله ﷺ واتَّبَعَه، وقال: أُهاجرُ معك، فأَوصَى النبيُّ ﷺ أصحابَه به، فلما كانت غزوةُ خيبرَ -أو حُنينٍ- غَنِمَ رَسولُ الله ﷺ شيئًا فقَسَمَ وقَسَمَ له، فأعطى أصحابَه ما قَسَمَ له، وكان يَرعَى ظَهْرَهم، فلما جاء دَفَعُوه إليه، قال: ما هذا؟ قالوا: قَسْمٌ قَسَمَه لك النبيُّ، فأَخَذَه فجاءَه، فقال: يا محمدُ، ما هذا؟ قال: "قَسْمٌ قَسَمتُه لك" فقال: ما على هذا اتَّبعتُك، ولكنِّي اتَّبعتُك على أن أُرمَى هاهنا -وأشار إلى حَلْقه- بسَهُم فأموتَ وأدخُلَ الجنةَ، فقال: "إِنْ تَصدُقِ اللهَ يَصدُقْكَ"، فَلَبِثُوا قليلًا ثم نَهَضُوا (3) في قتال العدوِّ، فأُتِيَ به يُحمَلُ وقد أصابه سهمٌ حيث أشارَ، فقال رسول الله ﷺ: "أَهُوَ هُوَ؟ " قالوا نعم، قال: "صَدَقَ الله فصَدَقَه"، فكفَّنه النبي ﷺ ثم قدَّمَه فصَلَّى عليه، فكان ممّا ظَهَرَ من صلاته عليه: "اللهمَّ هذا عبدُك خرج مُهاجِرًا في سبيلك، فقُتِلَ شهيدًا، فأنا عليه شهيدٌ" (4). ذكرُ أسامة بن زيد بن حارثة حِبِّ رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6527 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لایا اور آپ کی اتباع کی، اور کہا: میں آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا، تو نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس کے متعلق (خیال رکھنے کی) وصیت فرمائی، جب غزوہ خیبر —یا حنین— کا موقع آیا تو رسول اللہ ﷺ کو کچھ مالِ غنیمت حاصل ہوا، آپ ﷺ نے اسے تقسیم فرمایا اور اس شخص کا حصہ بھی نکالا، اور وہ حصہ ان صحابہ کو دے دیا جنہوں نے اسے تقسیم کیا تھا، وہ شخص اس وقت ان کی سواریوں کی چرائی کر رہا تھا، جب وہ واپس آیا تو انہوں نے وہ حصہ اسے دے دیا، اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ حصہ ہے جو نبی کریم ﷺ نے تمہارے لیے نکالا ہے، پس وہ اسے لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے محمد (ﷺ)! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «قَسْمٌ قَسَمْتُهُ لَكَ» ”یہ تمہارا وہ حصہ ہے جو میں نے تمہارے لیے نکالا ہے“، اس نے عرض کی: میں نے اس (مال) کے لیے آپ کی اتباع نہیں کی تھی، بلکہ میں نے تو اس لیے آپ کی اتباع کی تھی کہ مجھے یہاں —اور اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا— تیر لگے اور میں مر جاؤں اور جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اللہ سے سچے رہو گے تو وہ بھی تم سے سچ فرمائے گا (تمہاری تمنا پوری کر دے گا)“، پھر وہ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، پھر وہ دشمن سے قتال کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسے اٹھا کر لایا گیا جبکہ اسے وہیں تیر لگا تھا جہاں اس نے اشارہ کیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: «أَهُوَ هُوَ؟» ”کیا یہ وہی شخص ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ سے سچ کہا تو اللہ نے اس سے سچ کر دکھایا“، پھر نبی کریم ﷺ نے اسے کفن دیا، اسے آگے رکھا اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی، آپ ﷺ کی اس پر پڑھی گئی نماز میں سے جو کلمات ظاہر ہوئے وہ یہ تھے: «اللَّهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ، فَقُتِلَ شَهِيدًا، فَأَنَا عَلَيْهِ شَهِيدٌ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے جو تیری راہ میں ہجرت کر کے نکلا اور شہید ہو کر قتل ہوا، اور میں اس پر گواہ ہوں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6671
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6671] [ترقيم الشركة 6591] [ترقيم العلميه 6527]