المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ الْأُمَوِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عتاب بن اسید اموی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6667
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا الحسن بن علي بن نَصْر، حدثنا الزُّبير بن بكّار القاضي، حدثنا حسين بن سعيد بن هاشم بن سعيد من بني قيس بن ثَعلَبة، حدثني يحيى بن سعيد بن سالم القَدَّاحُ، عن أبيه، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ ليلةَ قُرْبِه من مكة فِي غَزْوة الفَتْح: "إنَّ بمكة لأربعة نَفَرٍ من قريشٍ أَربَأُ بهم عن الشِّرك، وأَرغَبُ بهم في الإسلام" قيل: ومَن هم يا رسول الله؟ قال: "عتّابُ بن أَسِيدٍ وجُبَيرُ بن مُطْعِمٍ وحَكيمُ بن حِزامٍ وسُهَيل بن عَمْرو" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے قریب پہنچنے والی رات کو فرمایا: ”مکہ میں قریش کے چار ایسے افراد ہیں جنہیں میں شرک سے بالاتر سمجھتا ہوں اور ان کے اسلام لانے کی رغبت رکھتا ہوں۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عتاب بن اسید، جبیر بن مطعم، حکیم بن حزام اور سہیل بن عمرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، حسين بن سعيد بن هاشم مجهول لم نقف له على ترجمة ويحيى بن سعيد القداح ليس بالقوي كما قال الدارقطني كما في ترجمته من "لسان الميزان" 8/ 443، وقال الذهبي في "الميزان": له مناكير.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حسین بن سعید بن ہاشم مجہول راوی ہے جس کے حالاتِ زندگی ہمیں نہیں مل سکے، جبکہ یحییٰ بن سعید القداح قوی نہیں ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے کہا ہے (لسان المیزان 8/ 443)۔ امام ذہبی نے "المیزان" میں لکھا ہے کہ اس کی مروی روایات منکر ہوتی ہیں۔
والخبر في "جمهرة نسب قريش" للزبير بن بكار ص 362 - 363، ومن طريقه أخرجه أيضًا ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 15/ 106. وفيه عن ابن جريج عن عطاء -وهو ابن أبي رباح- قال: لا أحسبه إلّا رفعه إلى ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ …
حوالہ / مصدر: یہ خبر زبیر بن بکار کی "جمهرة نسب قريش" ص 362-363 میں موجود ہے، اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 15/ 106 میں اسے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اس میں ابن جریج عن عطاء (بن ابی رباح) کی سند ہے، وہ کہتے ہیں: میرا گمان یہی ہے کہ انہوں نے اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ تک مرفوعاً بیان کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حسین بن سعید بن ہاشم مجہول راوی ہے جس کے حالاتِ زندگی ہمیں نہیں مل سکے، جبکہ یحییٰ بن سعید القداح قوی نہیں ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے کہا ہے (لسان المیزان 8/ 443)۔ امام ذہبی نے "المیزان" میں لکھا ہے کہ اس کی مروی روایات منکر ہوتی ہیں۔
والخبر في "جمهرة نسب قريش" للزبير بن بكار ص 362 - 363، ومن طريقه أخرجه أيضًا ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 15/ 106. وفيه عن ابن جريج عن عطاء -وهو ابن أبي رباح- قال: لا أحسبه إلّا رفعه إلى ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ …
حوالہ / مصدر: یہ خبر زبیر بن بکار کی "جمهرة نسب قريش" ص 362-363 میں موجود ہے، اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 15/ 106 میں اسے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اس میں ابن جریج عن عطاء (بن ابی رباح) کی سند ہے، وہ کہتے ہیں: میرا گمان یہی ہے کہ انہوں نے اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ تک مرفوعاً بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6667 سے ماخوذ ہے۔