کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حجاج کا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایذا دینا اور عبد الملک کا حجاج کو دھمکانا
حدثني علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن سماك بن موسى قال: لمَّا دَخَلَ أنسٌ على الحَجّاج أَمَر بوَجْئ عُنقِه، ثم قال: يا أهل الشام، أتعرِفون هذا؟ هذا خادمُ رسول الله ﷺ، ثم قال: تدرون لِمَ وَجَأْتُ عنقَه؟ قالوا: الأميرُ أعلم، قال: إنه كان بيِّنَ البلاءِ في الفتنة الأولى، غاشَّ الصدر في الفتنة الآخرة (1). قال جرير: فحدَّثَني محمدُ بن المغيرة قال: كان الحجَّاجُ يَطُوفُ به في العساكر، فكَتَبَ أنسٌ إلى عبد الملك: أرأيتُم لو أتاكم خادمُ موسى، أكنتم تُؤذونَه؟ فكتب عبدُ الملك إلى الحجَّاج: أنْ دَعْهُ فليَسكُن حيث شاء من البلاد، ولا تَعرِضْ له، وكتب إلى أنس: إنه ليس لأحدٍ عليك سلطانٌ دُوني (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6453 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6453 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سماک بن موسیٰ سے روایت ہے کہ جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ حجاج کے پاس گئے تو اس نے ان کی گردن پر ضرب لگانے کا حکم دیا، پھر اہل شام سے کہا: ”کیا تم اسے جانتے ہو؟ یہ رسول اللہ ﷺ کا خادم ہے،“ پھر پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو میں نے اس کی گردن پر ضرب کیوں لگوائی؟“ لوگوں نے کہا: ”امیر زیادہ بہتر جانتے ہیں،“ اس نے کہا: ”یہ پہلے فتنے میں آزمائش بنا ہوا تھا اور پچھلے فتنے میں بھی اس کے سینے میں کھوٹ بھرا ہوا تھا۔“ محمد بن مغیرہ کہتے ہیں کہ حجاج انہیں لشکروں میں ذلیل کرنے کے لیے پھرایا کرتا تھا، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو خط لکھا: ”آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا خادم آپ کے پاس آتا تو کیا آپ اسے یوں ہی ایذا دیتے؟“ تو عبدالملک نے حجاج کو خط لکھا: ”انہیں چھوڑ دو، وہ جہاں چاہیں سکونت اختیار کریں اور ان سے تعرض نہ کرو،“ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”میرے علاوہ آپ پر کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔“
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثنا زياد ابن أيوب وأبو كُريب قالا: حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش قال: كَتَبَ أَنسُ ابنُ مالك إلى عبد الملك بن مَرْوان: يا أميرَ المؤمنين، إني قد خَدَمتُ رسول الله ﷺ عشرَ سنين، وإنَّ الحجّاج يَعُدُّني من حَوَكِةِ البصرة، فقال عبد الملك: اكتَبْ إلى الحجَّاج يا غلامُ، فكتب إليه: وَيلَكَ، قد خَشِيتُ أن لا يَصلُحَ على يدك أحدٌ، فإذا جاءَك كتابي هذا فقُمْ حتى تَعتِذرَ إلى أنس بن مالك (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6454 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6454 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
اعمش سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا: ”اے امیر المؤمنین! میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی ہے اور حجاج مجھے بصرہ کے عام جولاہوں کی طرح سمجھتا ہے،“ تو عبدالملک نے اپنے منشی سے کہا: حجاج کو لکھو، اور اسے یہ پیغام بھیجا: ”تیری ہلاکت ہو، مجھے ڈر ہے کہ تیرے ہاتھ پر کوئی بھی بھلائی باقی نہیں رہے گی، جب میرا یہ خط ملے تو فوراً کھڑے ہو جاؤ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے معذرت کرو۔“
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني ميمونٌ أبو عبد الله، حدثنا ثابتٌ البُناني قال: قال أنس: يا أبا محمد، خُذْ عنّى، فإني أخذتُ عن رسول الله ﷺ، وأخَذَ رسول الله ﷺ عن الله ﷿، فلن تأخُذَ عن أحدٍ أوثقَ مني (2).
حافظ طلحہ بابر
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابومحمد! مجھ سے علم حاصل کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے لیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اللہ عزوجل سے علم لیا ہے، لہٰذا تم مجھ سے زیادہ قابلِ اعتماد کسی اور سے علم نہیں پاؤ گے۔“
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، عن ابن عَوْن قال: كان أنسٌ قليلَ الحديث عن رسول الله ﷺ، وكان إذا حَدَّث عن رسول الله ﷺ قال: أو كما قال رسولُ الله ﷺ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6456 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6456 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابن عون سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بہت کم احادیث بیان فرماتے تھے اور جب بھی کوئی حدیث بیان کرتے تو (احتیاطاً) یہ فرما دیتے: ”یا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔“
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى ابن إسماعيل، حدثنا إسحاق بن عثمان قال: قلت لموسى بن أنس: كم غَزَا النبيُّ ﷺ؟ قال: غَزَا ثلاثًا وعشرين غَزْوةً، ثمانِ غَزَواتٍ يقيم فيها الأشهر. قلت: كم غزا أنسٌ مع النبي ﷺ؟ قال: ثمانِ غَزَوات (1).
حافظ طلحہ بابر
اسحاق بن عثمان سے روایت ہے کہ میں نے موسیٰ بن انس سے پوچھا: نبی کریم ﷺ نے کل کتنے غزوات فرمائے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے تیئیس غزوات فرمائے جن میں سے آٹھ ایسے تھے جن میں آپ ﷺ کئی کئی ماہ قیام فرماتے تھے۔ میں نے پوچھا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی؟ انہوں نے کہا: آٹھ غزوات میں۔
حدثنا محمد بن صالح، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حجَّاج، أخبرنا حُمَيد: أنَّ أنس بن مالك حدَّثَ بحديثٍ عن رسول الله ﷺ فقال رجل: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ فغَضِبَ غضبًا شديدًا وقال: واللهِ ما كلُّ ما نحدِّثكم به سَمِعناه من رسول الله ﷺ، ولكن كان يُحدِّثُ بعضُنا بعضًا، ولا يَتَّهِمُ بعضُنا بعضًا (2). ذكرُ معرفة جماعة من الصحابة وما انتَهى إلينا من مَناقبِهم تأخَّر ذِكرُهم عن المذكورِين ومعرفةِ ولادتِهم وأَوقاتِ وفاتهم ﵃ فمنهم: حَمَل بن مالك بن النَّابغة الهُذَلي
حافظ طلحہ بابر
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث بیان کی تو ایک شخص نے دریافت کیا: ”کیا آپ نے یہ خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟“ اس پر آپ بہت زیادہ غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہم تمہیں جو کچھ بھی بیان کرتے ہیں وہ سب ہم نے خود رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا ہوتا، بلکہ ہم میں سے بعض بعض کو (احادیث) بیان کرتے تھے اور ہم ایک دوسرے پر (جھوٹ کا) اتہام نہیں لگاتے تھے۔“
اب ان صحابہ کرام کی جماعت کا ذکر جن کے مناقب ہمیں پہنچے اور ان کا تذکرہ پچھلے مذکورہ صحابہ سے مؤخر ہو گیا، نیز ان کی ولادت اور وفات کے اوقات کی معرفت؛ ان میں سے ایک حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی ہیں۔
اب ان صحابہ کرام کی جماعت کا ذکر جن کے مناقب ہمیں پہنچے اور ان کا تذکرہ پچھلے مذکورہ صحابہ سے مؤخر ہو گیا، نیز ان کی ولادت اور وفات کے اوقات کی معرفت؛ ان میں سے ایک حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی ہیں۔