المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِيذَاءُ الْحَجَّاجِ أَنَسًا وَتَوْعِيدُ عَبْدِ الْمَلِكِ لِلْحَجَّاجِ باب: حجاج کا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایذا دینا اور عبد الملک کا حجاج کو دھمکانا
حدثنا محمد بن صالح، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حجَّاج، أخبرنا حُمَيد: أنَّ أنس بن مالك حدَّثَ بحديثٍ عن رسول الله ﷺ فقال رجل: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ فغَضِبَ غضبًا شديدًا وقال: واللهِ ما كلُّ ما نحدِّثكم به سَمِعناه من رسول الله ﷺ، ولكن كان يُحدِّثُ بعضُنا بعضًا، ولا يَتَّهِمُ بعضُنا بعضًا (2). ذكرُ معرفة جماعة من الصحابة وما انتَهى إلينا من مَناقبِهم تأخَّر ذِكرُهم عن المذكورِين ومعرفةِ ولادتِهم وأَوقاتِ وفاتهم ﵃ فمنهم: حَمَل بن مالك بن النَّابغة الهُذَلي
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث بیان کی تو ایک شخص نے دریافت کیا: ”کیا آپ نے یہ خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟“ اس پر آپ بہت زیادہ غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہم تمہیں جو کچھ بھی بیان کرتے ہیں وہ سب ہم نے خود رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا ہوتا، بلکہ ہم میں سے بعض بعض کو (احادیث) بیان کرتے تھے اور ہم ایک دوسرے پر (جھوٹ کا) اتہام نہیں لگاتے تھے۔“
اب ان صحابہ کرام کی جماعت کا ذکر جن کے مناقب ہمیں پہنچے اور ان کا تذکرہ پچھلے مذکورہ صحابہ سے مؤخر ہو گیا، نیز ان کی ولادت اور وفات کے اوقات کی معرفت؛ ان میں سے ایک حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حجاج سے مراد "ابن حسان القیسی البصری" اور حمید سے مراد "ابن ابی حمید الطویل" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (5/ 331)، ابن ابی عاصم (816، 817)، طحاوی (426، 427)، طبرانی (699) اور خطیب بغدادی (100) نے حمید الطویل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر جو حدیث بیان فرمائی وہ "حدیثِ شفاعت" ہے۔