کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات و مناقب کا ذکر جن کا بیان پہلے نہ ہو سکا نیز ان کی ولادت اور وفات کے اوقات کا بیان جن میں سے سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ بھی ہیں
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خيَّاط العُصفُري قال: حَمَلُ بن مالك بن النَّابغة بن جابر بن عُبَيد ابن رَبِيعة بن كعب بن الحارث بن كَبِير بن هند بن طابِخةَ بن لِحْيان بن هذيل الهُذَلي، له دارٌ بالبصرة.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ حمل بن مالک بن نابغہ بن جابر بن عبید بن ربیعہ بن کعب بن حارث بن کبیر بن ہند بن طابخہ بن لحیان بن ہذیل ہذلی کا بصرہ میں ایک گھر تھا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن عُيَينة، أخبرني عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عبّاس قال: قام عمرُ على المِنبَر فقال: أُذكِّرُ امْرَأً سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَضَى في الجَنِينَ، فقام حَمَلُ بن مالك بن النابغة الهُذَلي فقال: يا أميرَ المؤمنين، كنت بين جارتَينِ (1) -يعني ضَرَّتَين- فجَرَحَت- أو ضربَت - إحداهما الأخرى بعمودِ ظُلَّتِها، فقتلَتْها وقتلتْ ما في بطنها، فقَضَى النبيُّ ﷺ في الجَنِين بغُرَّةٍ: عبدٍ أو أمةٍ، فقال عمر: الله أكبر، لو لم نَسمَعْ بهذا قَضَينا (2) بغيرِه (3). ذكرُ عَقِيل بن أبي طالب ﵁- وكان من حقِّ شَرَفه ونَسَبِه أن يُقرَّبَ ذِكرُه من إخوته وعَشيرته، وإنما تأخَّر لقِلَّة روايتِه وذكره في مسانيد الأئمَّة ﵃.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں اس شخص کو (اللہ کا واسطہ دے کر) یاد دلاتا ہوں جس نے رسول اللہ ﷺ کو جنین (پیٹ میں موجود بچے) کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے سنا ہو،“ تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! میں دو عورتوں (سوکنوں) کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کے ستون سے زخمی کر دیا -یا مارا- جس سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مر گئے، تو نبی کریم ﷺ نے جنین کے بارے میں ایک ”غُرَّہ“ (یعنی ایک غلام یا لونڈی بطورِ دیت) دینے کا فیصلہ فرمایا،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اکبر! اگر ہم یہ (حدیث) نہ سنتے تو ہم اس کے علاوہ کچھ اور فیصلہ کر دیتے۔“
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ؛ ان کے شرف اور نسب کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان کا ذکر ان کے بھائیوں اور قبیلے کے ساتھ ہی کیا جاتا، لیکن ان کا ذکر ائمہ کی مسانید میں مرویات کی کمی کی وجہ سے مؤخر ہو گیا۔
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ؛ ان کے شرف اور نسب کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان کا ذکر ان کے بھائیوں اور قبیلے کے ساتھ ہی کیا جاتا، لیکن ان کا ذکر ائمہ کی مسانید میں مرویات کی کمی کی وجہ سے مؤخر ہو گیا۔