کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کے آثار کی مکمل پیروی کرتے تھے
حدثني علي بن حَمْشَادَ العَدْل، حدثنا بِشْر (1) بن موسى، حدثنا عبد الصمد ابن حسّان، حدثنا خارجةُ، عن موسى بن عُقْبة، عن نافع قال: لو رأيت ابن عمر يَتَتبَّع آثارَ رسول الله ﷺ لقلتَ: هذا مجنون (2).
حافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے کہ اگر تم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کے آثار اور نقشِ قدم کی اس قدر شدت سے پیروی کرتے ہوئے دیکھتے تو تم (فرطِ عقیدت دیکھ کر) یقیناً یہ کہتے کہ یہ دیوانے ہیں۔
أخبرني محمد بن الحسن القارِزِي (3)، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيدٍ، حدثنا ابن أبي مريم، حدثني عبد الجبار بن عمر، عن ابن شِهاب قال: أسلَمَ عبدُ الله بن عمر قبلَ أبيه (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6377 - هذا باطل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6377 - هذا باطل
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (عمرِ صغر میں) اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے تھے۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي، حدثنا أبو أُسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن ابن عمر: أنَّ رجلًا سأله عن مسألةٍ، فقال: لا عِلمَ لي بها، فلما أدبَرَ الرجلُ قال ابن عمر: نِعمَ ما قال ابنُ عمر، سُئِلَ عَمَّا لا يعلمُ فقال: لا عِلمَ لي بها (5). ذكرُ رافع بن خَدِيج ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس کا علم نہیں ہے۔“ جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (بطورِ تحدیثِ نعمت) فرمایا: ”ابن عمر نے کتنا اچھا جواب دیا، اس سے وہ بات پوچھی گئی جس کا اسے علم نہ تھا تو اس نے (بے جھجک) کہہ دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔“