حدیث نمبر: 6516
حدثني علي بن حَمْشَادَ العَدْل، حدثنا بِشْر (1) بن موسى، حدثنا عبد الصمد ابن حسّان، حدثنا خارجةُ، عن موسى بن عُقْبة، عن نافع قال: لو رأيت ابن عمر يَتَتبَّع آثارَ رسول الله ﷺ لقلتَ: هذا مجنون (2).
حافظ طلحہ بابر

نافع سے روایت ہے کہ اگر تم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کے آثار اور نقشِ قدم کی اس قدر شدت سے پیروی کرتے ہوئے دیکھتے تو تم (فرطِ عقیدت دیکھ کر) یقیناً یہ کہتے کہ یہ دیوانے ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6516
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل خارجة» [ترقيم الرساله 6516] [ترقيم الشركة 6440]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أنس.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں تحریف کی وجہ سے یہاں نام "انس" درج ہو گیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل خارجة -وهو ابن مصعب الخراساني- فإنه متروك.
درجۂ حدیث: خارجہ بن مصعب الخراسانی کی وجہ سے اس کی سند انتہائی ضعیف ہے، کیونکہ وہ "متروک" راوی ہے۔
ويغني عنه ما أخرجه ابن حبان (4074) من طريق عبيد الله بن عمر، عن نافع، قال: كان ابن عمر يتتبع آثار رسول الله ﷺ وكلَّ منزل نزله رسول الله ﷺ ينزل فيه.
متابعات و شواہد: اس ضعیف روایت کے مقابلے میں ابن حبان (4074) کی یہ روایت کافی ہے جو عبید اللہ بن عمر عن نافع کے طریق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ: "ابن عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے آثار (نشاناتِ قدم) کی تلاش میں رہتے تھے اور جس جگہ بھی رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا ہوتا، وہ بھی وہیں قیام کرتے تھے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6516 سے ماخوذ ہے۔