المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اتِّبَاعُ ابْنِ عُمَرَ آثَارَ النَّبِيِّ باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کے آثار کی مکمل پیروی کرتے تھے
حدیث نمبر: 6518
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي، حدثنا أبو أُسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن ابن عمر: أنَّ رجلًا سأله عن مسألةٍ، فقال: لا عِلمَ لي بها، فلما أدبَرَ الرجلُ قال ابن عمر: نِعمَ ما قال ابنُ عمر، سُئِلَ عَمَّا لا يعلمُ فقال: لا عِلمَ لي بها (5). ذكرُ رافع بن خَدِيج ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس کا علم نہیں ہے۔“ جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (بطورِ تحدیثِ نعمت) فرمایا: ”ابن عمر نے کتنا اچھا جواب دیا، اس سے وہ بات پوچھی گئی جس کا اسے علم نہ تھا تو اس نے (بے جھجک) کہہ دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(5) إسناده صحيح. الحسن بن علي: هو ابن عفان العامري، وأبو أسامة: هو حماد بن أسامة. وأخرجه الدارمي في "مسنده" (185) من طريق علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، به.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حسن بن علی سے مراد "ابن عفان العامری" ہیں اور ابو اسامہ سے مراد "حماد بن اسامہ" ہیں۔
حوالہ / مصدر: امام دارمی نے اسے اپنی "مسند" (185) میں علی بن مسہر عن ہشام بن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حسن بن علی سے مراد "ابن عفان العامری" ہیں اور ابو اسامہ سے مراد "حماد بن اسامہ" ہیں۔
حوالہ / مصدر: امام دارمی نے اسے اپنی "مسند" (185) میں علی بن مسہر عن ہشام بن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6518 سے ماخوذ ہے۔