کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سب سے زیادہ زاہد اور درست رائے رکھنے والے تھے
حدثني أبو عبد الله محمد بن العبّاس الشَّهيد ﵁، أخبرنا حاتم (3) بن محبوب، حدثنا عبد الجبار بن العلاء، حدثنا سفيان، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: سمعت عليَّ بن الحسين يقول: ابنُ عمر أزهدُ القوم وأصوَبُ القوم رأيًا (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن حسین (امام زین العابدین) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سب سے زیادہ زاہد (دنیا سے بے رغبت) اور سب سے درست رائے رکھنے والے شخص تھے۔
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران قال: كنَّا مع جابر بن عبد الله، فقال جابر: إذا سَرَّكم أن تَنظُروا إلى أصحاب محمدٍ ﷺ الذين لم يُغيروا ولم يُبدِّلوا، فانظُروا إلى عبد الله بن عُمر، ما منَّا أحدٌ إِلَّا غَيَّر (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
یوسف بن مہران سے روایت ہے کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے تو انہوں نے فرمایا: اگر تمہیں یہ دیکھ کر خوشی ہو کہ اصحابِ محمد ﷺ میں سے وہ کون ہے جس نے (اپنے طریقے میں) کوئی تبدیلی یا رد و بدل نہیں کیا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ لو، کیونکہ ہم میں سے ہر ایک میں (حالات کے مطابق) کچھ نہ کچھ تبدیلی آ گئی مگر وہ اپنے حال پر قائم رہے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل، حدثنا أبو نَصْر أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو غسّان مالك بن إسماعيل، حدثنا زهير، عن محمد ابن سُوقَة، عن أبي جعفر قال: لم يكن أحدٌ من أصحاب النبي ﷺ إذا سَمِعَ من رسول الله ﷺ حديثًا، أحذر أن لا يزيدَ فيه ولا يَنقُصَ ولا ولا من ابن عمر (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6374 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6374 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابوجعفر (امام باقر) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو رسول اللہ ﷺ سے حدیث سننے کے بعد اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنے سے اتنا زیادہ ڈرتا اور احتیاط کرتا ہو جتنا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ڈرتے تھے۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عَمرو (2)، عن أبي عَمرو بن حِمَاس، عن حمزة بن عبد الله بن عُمر، عن عبد الله بن عمر قال: تَلَوتُ هذه الآية: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [آل عمران: 92]، فذَكَرتُ ما أعطاني الله، فما وجدتُ شيئًا أحبَّ إليَّ من جاريتي رضيَّة، فقلت: هي حُرَّةٌ لوجه الله ﷿، فلولا أني لا أعودُ في شيءٍ جعلتُه لله ﷿ لنكَحتُها. فأنكَحَها نافعًا، فهي أمِّ ولدِه (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”تم ہرگز بھلائی کو نہیں پا سکتے یہاں تک کہ ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔“ [سورة آل عمران: 92]، تو میں نے ان نعمتوں پر غور کیا جو اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہیں، مجھے اپنی باندی ”رضیہ“ سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہ ملی، چنانچہ میں نے کہا: یہ اللہ عزوجل کی رضا کے لیے آزاد ہے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتا جسے میں اللہ کی خاطر وقف کر دوں تو میں اس سے نکاح کر لیتا۔ پھر انہوں نے اس کا نکاح (اپنے خادم) نافع سے کر دیا اور وہ ان کے صاحبزادے کی ماں (ام ولد) بنی۔