حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: ورافعُ بن خَدِيج بن رافع بن عَدِيّ بن زيد بن جُشَمَ بن حارثةَ بن الحارث بن الخَزْرج بنِ عَمْرِو - وهو النَّبِيتُ- بن مالك بن أَوْس، شَهِدَ رافعٌ أُحدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ. وكان رافعٌ أصابه يومَ أُحدٍ سَهمٌ في تَرقُوتِه، فقال له رسول الله ﷺ: "إنْ شئتَ نَزَعتُ السَّهمَ، وتركتُ القُطْبةَ، وشَهِدتُ لك يومَ القيامة أنك شهيدٌ"، فتركها رافعٌ لقول رسول الله ﷺ، فكان لا يُحِسُّ منه شيئًا دَهْرًا، وكان إذا ضَحِكَ فاسْتَغْرِبَ بَدَا، فلما كان في خلافة عثمان انتَقَضَ به ذلك الجُرْحُ فمات منه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6379 - هذا لا يصح ولا يستقيم معناه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6379 - هذا لا يصح ولا يستقيم معناه
حافظ طلحہ بابر
رافع بن خدیج بن رافع بن عدی انصاری اوسی، رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ احد، خندق اور تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ غزوہ احد کے دن انہیں ہنسلی کی ہڈی پر ایک تیر لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں یہ تیر نکال دیتا ہوں لیکن اس کا پھل (تیر کا اگلا حصہ) اندر ہی رہنے دیتا ہوں اور قیامت کے دن تمہارے لیے گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو۔“ تو رافع نے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی برکت پانے کے لیے اسے اندر ہی رہنے دیا، چنانچہ ایک طویل عرصے تک انہیں اس کا احساس نہ ہوا، اور جب وہ کھل کر ہنستے تو وہ (تیر کا پھل) ظاہر ہو جاتا تھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وہ زخم دوبارہ ہرا ہو گیا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔
قال ابن عمر: فحدَّثَني عبيدُ الله بن الهُرَير - من ولد رافع بن خَدِيج - عن عمر بن عُبيد الله بن أبي رافع، عن بُشَير بن يَسَار (2) قال: مات رافعُ بن خَديجٍ في أول سنة أربع وسبعين وهو ابن ستٍّ وثمانين سنة، وحَضَرَ ابنُ عمر جنازتَه، وكان رافع يُكْنى أبا عبد الله، ومات بالمدينة.
حافظ طلحہ بابر
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی وفات 74 ہجری کے شروع میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر 86 سال تھی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے جنازے میں شریک ہوئے، رافع کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم ابن المنذِر قال: تُوفِّي رافعُ بن خَدِيج الحارثي - يُكنى أبا عبد الله- بالمدينة سنةَ أربع وسبعين.
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر سے روایت ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج حارثی رضی اللہ عنہ (جن کی کنیت ابوعبداللہ تھی) کی وفات مدینہ منورہ میں 74 ہجری میں ہوئی۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، عن أبي بِشْر، عن يوسف بن ماهَكَ قال: رأيتُ ابنَ عمر قائمًا بين قائمتَي سريرِ رافع بن خَديج.
حافظ طلحہ بابر
یوسف بن ماہک سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے جنازے کے پائے کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا۔
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يعقوب بن [محمد] (1) حدثنا رِفاعةُ بن هُرَير، عن جدِّه رافع بن خَدِيجٍ: أَنَّ رسول الله ﷺ أجازه يومَ أُحدٍ وجعله في الرُّماة. ذكرُ سَلَمة بن الأكوَع ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6382 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6382 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں غزوہ احد کے دن (جنگ میں شرکت کی) اجازت عطا فرمائی اور انہیں تیر اندازوں کے دستے میں شامل کیا۔