حدیث نمبر: 6513
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران قال: كنَّا مع جابر بن عبد الله، فقال جابر: إذا سَرَّكم أن تَنظُروا إلى أصحاب محمدٍ ﷺ الذين لم يُغيروا ولم يُبدِّلوا، فانظُروا إلى عبد الله بن عُمر، ما منَّا أحدٌ إِلَّا غَيَّر (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

یوسف بن مہران سے روایت ہے کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے تو انہوں نے فرمایا: اگر تمہیں یہ دیکھ کر خوشی ہو کہ اصحابِ محمد ﷺ میں سے وہ کون ہے جس نے (اپنے طریقے میں) کوئی تبدیلی یا رد و بدل نہیں کیا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ لو، کیونکہ ہم میں سے ہر ایک میں (حالات کے مطابق) کچھ نہ کچھ تبدیلی آ گئی مگر وہ اپنے حال پر قائم رہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6513
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد -وهو ابن جُدْعان
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد -وهو ابن جُدْعان، وقد تفرَّد بالرواية عن يوسف بن مهران. وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4305) من طريق محمد بن الحسن الأسدي، عن سليمان بن المغيرة بهذا الإسناد. وتحرَّف فيه علي بن زيد إلى: سلمة بن زيد.» [ترقيم الرساله 6513] [ترقيم الشركة 6437] [ترقيم العلميه 6373]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(5) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد -وهو ابن جُدْعان- وقد تفرَّد بالرواية عن يوسف بن مهران. وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4305) من طريق محمد بن الحسن الأسدي، عن سليمان بن المغيرة بهذا الإسناد. وتحرَّف فيه علي بن زيد إلى: سلمة بن زيد.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ علی بن زید (جو کہ ابن جدعان ہے) کا ضعف ہے، مزید یہ کہ وہ یوسف بن مہران سے روایت کرنے میں منفرد ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (4305) میں محمد بن حسن اسدی کے طریق سے، انہوں نے سلیمان بن مغیرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، البتہ وہاں "علی بن زید" کا نام تحریف ہو کر "سلمہ بن زید" ہو گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6513 سے ماخوذ ہے۔