کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمَير، قال: مات حسّانُ بن ثابت الأنصاري في إمارة معاويةَ سنة خمسٍ وخمسين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبد اللہ بن نمیر سے روایت ہے کہ سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں پچپن ہجری میں ہوئی۔
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن سعد الزُّهْري، حَدَّثَنَا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حَدَّثَنَا أَبي، عن ابن إسحاق، عن سعيد بن عبد الرحمن، عن حَرمَلة راويةِ حسَّان بن ثابت قال: أتيتُ حسّانَ فقلت: يا أبا الحُسَام (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے راوی حرملہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حسان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے ابوالحسام (تیز دھار تلوار والے)۔“
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، حدثني محمد بن إسحاق، حدثني صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أسعد بن زُرَارة، حدثني الثَّبَتُ (3) من رجال قومي، عن حسان بن ثابت قال: والله إني لغلامٌ يَفَعَةٌ ابن سبعِ أو ثمانِ سنين أَعقِلُ ما سمعتُ، إذ سمعتُ يهوديًّا وهو على أُطُمِه بيثربَ (4) يَصرُخ: يا معشرَ اليهود، فلما اجتمعوا قالوا: وَيلَكَ، ما لك؟ فقال: قد طَلَعَ نجمُ الذي يُبعَث الليلةَ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس وقت سات یا آٹھ سال کا ایک سمجھدار بچہ تھا اور جو سنتا تھا اسے یاد رکھتا تھا، میں نے ایک یہودی کو یثرب میں اپنے قلعے کے اوپر سے چیختے ہوئے سنا: ”اے گروہِ یہود!“ جب وہ جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا: تیرا برا ہو، تجھے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: ”اس نبی کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے جس نے آج کی رات مبعوث ہونا ہے۔“
حَدَّثَنَا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى إملاءً، حَدَّثَنَا أبو العبّاس السَّرّاج، حدثني أبو بكر محمد بن خلف الحَدّادي، حدثني إسحاق بن إبراهيم الرازي خَتَنُ سَلَمة، حَدَّثَنَا سَلَمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، حدثني سعيد بن عبد الرحمن بن حسَّان بن ثابت قال: عاش جدُّنا حَرَامٌ أبو المنذر عشرين ومئة سنة، وعاش المنذرُ بن حرام عشرين ومئة سنة، وعاش ابنه ثابت بن المنذر عشرين ومئة سنة، وعاش ابنُه حسَّان بن ثابت عشرين ومئة سنة، ولما احتُضِرَ حسان أجَّجَ نارًا، وجمع عشيرتَه، ثم أنشأَ يقول: وإنَّ امرَأً أمسى وأصبحَ سالمًا … من الناس إلّا ما جَنَى لَسَعيدُ قال: ثم عاش بعده عبدُ الرحمن بن حسَّان بن ثابت نيِّفًا وثمانين سنة، فلما حَضَرَته الوفاةُ أجَّجَ نارًا، وجمع عشيرتَه، ثم أنشأَ يقول: وإِنَّ امْرَأً نالَ الغِنى ثم لم يَنَلْ … صديقًا له من فضلِه لَكَفُورُ ثم عاش بعده سعيدُ بن عبد الرحمن بن حسَّان بن ثابت نيِّفًا وثمانين سنة، فلما حَضَرته الوفاةُ قال: وإِنَّ امرَأً دُنْياهُ أكبرُ همِّهِ … لمستمسكٌ منها بحَبلِ غَرُورِ (2)
حافظ طلحہ بابر
سعید بن عبد الرحمن بن حسان بن ثابت سے روایت ہے کہ ہمارے پردادا حرام ابوالمنذر نے ایک سو بیس سال زندگی پائی، ان کے بیٹے منذر بن حرام نے ایک سو بیس سال، ان کے بیٹے ثابت بن منذر نے ایک سو بیس سال اور ان کے بیٹے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی ایک سو بیس سال عمر پائی، جب حسان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے آگ روشن کی اور اپنے قبیلے کو جمع کر کے یہ شعر پڑھا: ”یقیناً وہ شخص جو صبح و شام لوگوں کے شر سے محفوظ رہا وہ سعادت مند ہے سوائے اس کے جس نے خود کوئی گناہ کیا ہو۔“ ان کے بعد ان کے بیٹے عبد الرحمن بن حسان بن ثابت اسی برس سے کچھ اوپر زندہ رہے، جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے آگ روشن کر کے قبیلے کو جمع کیا اور یہ شعر پڑھا: ”بے شک وہ شخص جس نے مال و دولت تو حاصل کر لی مگر اپنے فضل و کرم سے اپنے کسی دوست کا بھلا نہ کیا وہ بڑا ہی ناشکرا ہے۔“ ان کے بعد ان کے بیٹے سعید بن عبد الرحمن بن حسان بن ثابت اسی 80 برس سے کچھ زائد جئے اور وفات کے وقت یہ شعر کہا: ”بے شک وہ شخص جس کی دنیا ہی اس کا سب سے بڑا غم بن جائے وہ دنیا کی دھوکے کی رسی کو تھامے ہوئے ہے۔“
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يضعُ لحسَّان مِنبرًا في المسجد يقومُ عليه قائمًا يفاخرُ عن رسول الله ﷺ، ويقول رسول الله ﷺ: "إنَّ الله يؤيِّدُ حسَّانَ برُوحِ القُدُس ما نافَحَ - أو فاخَرَ - عن رسول الله ﷺ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں ایک منبر رکھواتے تھے جس پر وہ کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ کی جانب سے (مشرکین کے مقابلے میں) فخریہ اشعار پڑھتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”بے شک اللہ تعالیٰ روح القدس (سیدنا جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے حسان کی تائید فرماتا ہے جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے ہیں یا آپ ﷺ کی طرف سے فخریہ جواب دیتے ہیں۔“
وحدثنا أبو العبّاس، حَدَّثَنَا بَحر بن نَصر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، عن النَّبِيّ ﷺ نحوَه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6058 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6058 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے اسی مفہوم کی روایت منقول ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة (1)، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن سعد، عن صالح بن كَيْسان، عن ابن شِهاب، عن عُرْوة قال: كانت عائشةُ تكره أن يُسَبَّ حسانُ بن ثابتٍ عندها، وتقول: أليسَ الذي قال: فإنَّ أَبي ووالده وعِرْضي … لعِرْضِ محمدٍ منكم وقَاءُ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6060 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6060 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سخت ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے سامنے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جائے، وہ (ان کا دفاع کرتے ہوئے) فرماتی تھیں: ”کیا یہ وہی نہیں ہیں جنہوں نے (رسول اللہ ﷺ کی محبت میں) یہ شعر کہا تھا: ”پس یقیناً میرے والد، ان کے والد اور میری عزت، تم لوگوں (مشرکین) کے مقابلے میں محمد ﷺ کی آبرو کے لیے ڈھال ہے۔“
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا سليمان بن حَرْب، حَدَّثَنَا حمَّاد بن زيد، عن يزيد بن حازم (3)، عن سليمان بن يَسَار قال: رأيت حسانَ بن ثابتٍ وله ناصيةٌ قد سَدَلَها بين عينيه (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6061 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6061 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سلیمان بن یسار سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کی پیشانی کے بال (پٹّے) ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان لٹک رہے تھے۔