کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) کا سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کی تائید فرمانے کا بیان
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا الهيثم بن خالد، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا عيسى بن عبد الرحمن، حدثني عَدِيُّ بن ثابت، عن البَرَاء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ لحسّان بن ثابت: "إِنَّ رُوحَ القُدُسِ معك ما هَاجَيتَهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلاشبہ روح القدس (سیدنا جبرائیل علیہ السلام) تمہارے ساتھ ہیں جب تک تم (اشعار کے ذریعے) ان (مشرکین) کا مقابلہ کرتے رہو گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكِّي، حَدَّثَنَا أحمد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عَبْدة بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: استأذَنَ حسانُ بن ثابتٍ رسولَ الله ﷺ في هِجاء المشركين، فقال رسول الله ﷺ: "فكيف بنَسَبي فيهم؟ " فقال حسان: لأَسُلَّنَّك منهم كما تُسَلُّ الشَّعرةُ من العَجين. قال هشام: قال أَبي: وذهبتُ أسبُّ حسانَ عند عائشة، فقالت: لا تسبَّ حسانَ، فإنه كان ينافحُ عن رسول الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه هكذا! إنما أخرجه مسلم (1) بطوله من حديث الليث عن خالد بن يزيد، وذكر فيه القصيدةَ بطولها: هَجَوتَ محمدًا وأجبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6063 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه هكذا! إنما أخرجه مسلم (1) بطوله من حديث الليث عن خالد بن يزيد، وذكر فيه القصيدةَ بطولها: هَجَوتَ محمدًا وأجبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6063 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی، تو رسول اللہ ﷺ نے (استفساراً) فرمایا: ”لیکن میرے نسب کا کیا ہوگا جو ان (قریش) میں موجود ہے؟“ حسان نے عرض کیا: ”میں آپ کو ان کے درمیان سے اس طرح (بسلامت) نکال لوں گا جیسے گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔“ ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد (عروہ) نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان کو برا کہنا چاہا تو انہوں نے (منع کرتے ہوئے) فرمایا: ”حسان کو برا مت کہو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا کرتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح (ان الفاظ میں) روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے طویل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے جس میں مکمل قصیدہ بھی مذکور ہے: «هَجَوتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ، وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ» ”تم نے محمد (ﷺ) کی ہجو کی اور میں نے اس کا جواب دیا، اور اللہ کے ہاں اس کا بہترین بدلہ موجود ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح (ان الفاظ میں) روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے طویل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے جس میں مکمل قصیدہ بھی مذکور ہے: «هَجَوتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ، وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ» ”تم نے محمد (ﷺ) کی ہجو کی اور میں نے اس کا جواب دیا، اور اللہ کے ہاں اس کا بہترین بدلہ موجود ہے۔“