کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عبادت میں بہت زیادہ مجاہدہ کرنے والے تھے
حدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الحسن، حَدَّثَنَا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن معاوية بن قُرَّة قال: كان عِمرانُ بن الحُصَين من أشدِّ أصحاب رسول الله ﷺ اجتهادًا في العبادة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5990 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5990 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں عبادت کی مشقت اور اس میں انتہائی جدوجہد کرنے کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت کوش تھے۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا عارمُ بن الفضل، حَدَّثَنَا حمّاد بن زيد، حَدَّثَنَا هشام بن حسّان، عن محمد بن المُنكَدِر، قال: ما قَدِمَ البصرة أحدٌ من أصحاب النَّبِيّ ﷺ يَفضُلُ على عِمرانَ بن حُصين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5991 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5991 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن منکدر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے بصرہ میں کوئی ایسا شخص نہیں آیا جو (مقام و مرتبہ اور علم و فضل میں) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے برتر ہو۔
حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَريُّ، حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم العَبْديُّ، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا ابن عُليَّة، عن سعيد، عن قَتَادة، عن مُطَرِّفٍ قال: خرجنا مع عِمرانَ بن الحُصين من البصرة إلى الكوفة، فما أتَى عليه يومٌ إلَّا يُناشِدُ فيه الشِّعر (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5992 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5992 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مطرف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ سے کوفہ کی طرف نکلے، تو ان پر کوئی ایسا دن نہیں گزرتا تھا جس میں وہ (اپنی گفتگو کے دوران) کثرت سے اشعار نہ پڑھتے ہوں۔
أخبرني أبو العبّاس المحبوبي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا إبراهيم بن عطاء بن أبي ميمونة، عن أبيه: أنَّ ناقةً لنُجَيد بن عمران بن حُصَين رَيَّمَتْ وعمرانُ مريضٌ، فتأذَّى بها، فَلَعَنَها عمرانُ، فخرج نُجيدٌ وهو يَستَرجِعُ، وكانت ناقةً تُعجبُه، فقيل له: ما لَكَ؟ فقال لَعَنَ أبو نُجيدٍ ناقتي، فما لَبِثَ إِلَّا قليلًا حتَّى اندقَّ عُنْقُها (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5993 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5993 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن عطاء بن ابی میمونہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نُجَید کی ایک اونٹنی (سفر کے دوران) رُک گئی اور سیدنا عمران رضی اللہ عنہ اس وقت بیمار تھے، تو وہ اس کی وجہ سے اذیت محسوس کرنے لگے اور انہوں نے اسے لعنت کی، پس نُجَید «إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھتے ہوئے نکلے جبکہ وہ اونٹنی انہیں بہت مرغوب تھی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا: ابو نُجَید (سیدنا عمران) نے میری اونٹنی پر لعنت بھیج دی ہے، پھر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس اونٹنی کی گردن ٹوٹ گئی۔