المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ كَانَ أَشَدَّ اجْتِهَادًا فِي الْعِبَادَةِ باب: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عبادت میں بہت زیادہ مجاہدہ کرنے والے تھے
حدیث نمبر: 6106
أخبرني أبو العبّاس المحبوبي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا إبراهيم بن عطاء بن أبي ميمونة، عن أبيه: أنَّ ناقةً لنُجَيد بن عمران بن حُصَين رَيَّمَتْ وعمرانُ مريضٌ، فتأذَّى بها، فَلَعَنَها عمرانُ، فخرج نُجيدٌ وهو يَستَرجِعُ، وكانت ناقةً تُعجبُه، فقيل له: ما لَكَ؟ فقال لَعَنَ أبو نُجيدٍ ناقتي، فما لَبِثَ إِلَّا قليلًا حتَّى اندقَّ عُنْقُها (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5993 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن عطاء بن ابی میمونہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نُجَید کی ایک اونٹنی (سفر کے دوران) رُک گئی اور سیدنا عمران رضی اللہ عنہ اس وقت بیمار تھے، تو وہ اس کی وجہ سے اذیت محسوس کرنے لگے اور انہوں نے اسے لعنت کی، پس نُجَید «إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھتے ہوئے نکلے جبکہ وہ اونٹنی انہیں بہت مرغوب تھی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا: ابو نُجَید (سیدنا عمران) نے میری اونٹنی پر لعنت بھیج دی ہے، پھر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس اونٹنی کی گردن ٹوٹ گئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل إبراهيم بن عطاء بن أبي ميمونة. سعيد بن مسعود: هو ابن عبد الرحمن المروزي.
درجۂ حدیث: ابراہیم بن عطا کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: سعید بن مسعود سے مراد ابن عبد الرحمن المروزی ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5299) من طريق أبي همام الوليد بن شجاع السكوني، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (5299) میں ابوہتمام الولید بن شجاع کے طریق سے یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ريَّمت: من الرَّيْم، وهو البَرَاح، يعني: زالت وتحركت من مكانها وأكثرت الجَوَلان. ووقع عند أبي نعيم في "المعرفة": رَغَت، من الرُّغاء، صوت الإبل.
نوٹ / توضیح: لفظ "ريَّمت" کا مطلب ہے اپنی جگہ سے ہٹنا، متحرک ہونا یا بار بار چکر لگانا۔ ابو نعیم کی روایت میں اس کی جگہ "رَغَت" کا لفظ ہے جو اونٹ کی آواز (بلبلانے) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
درجۂ حدیث: ابراہیم بن عطا کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: سعید بن مسعود سے مراد ابن عبد الرحمن المروزی ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5299) من طريق أبي همام الوليد بن شجاع السكوني، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (5299) میں ابوہتمام الولید بن شجاع کے طریق سے یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ريَّمت: من الرَّيْم، وهو البَرَاح، يعني: زالت وتحركت من مكانها وأكثرت الجَوَلان. ووقع عند أبي نعيم في "المعرفة": رَغَت، من الرُّغاء، صوت الإبل.
نوٹ / توضیح: لفظ "ريَّمت" کا مطلب ہے اپنی جگہ سے ہٹنا، متحرک ہونا یا بار بار چکر لگانا۔ ابو نعیم کی روایت میں اس کی جگہ "رَغَت" کا لفظ ہے جو اونٹ کی آواز (بلبلانے) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6106 سے ماخوذ ہے۔